خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بدھ کو اسرائیل کے چینل 13 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "حماس ایک نظریہ ہے، ہم نظریے کو ختم نہیں کر سکتے۔”
انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ ہم حماس کو ختم کرنے جا رہے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ اگر ہم کوئی متبادل فراہم نہیں کریں گے تو حماس موجود رہے گی۔
فوج کے اعلیٰ ترجمان کے اس بیان پر ردِ عمل بھی آیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے اس بیان کو فوری طور پر مسترد کردیا ہے۔
نیتن یاہو کی کابینہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں کارروائیاں اس وقت تک ختم نہیں ہوں گی جب تک حماس کو شکست نہیں دی جاتی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بن یامین نیتن یاہو کی سربراہی میں سیاسی اور سیکیورٹی کابینہ نے واضح کیا ہے کہ جنگ کا ایک مقصد حماس کی عسکریت اور حکومتی صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ "آئی ڈی ایف (اسرائیلی ڈیفنس فورسز) یقیناً اس کے لیے پُر عزم ہے۔”
دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک الگ بیان میں واضح کیا کہ ڈینیئل ہگاری نے حماس کو ایک "نظریے کے طور پر بیان کیا اور ان کے بیانات واضح تھے۔”