پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی کے علاقے ملیر میں واقع سید ہاشمی ریفرنس لائبریری جسے ایکسپریس وے پروجیکٹ میں مسماری کا سامنا ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ اس طرح کی کوئی بات نہیں یہ محض سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں ہیں۔
اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ملیر کے نام سے منسوب سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ سید ظہور شاہ ہاشمی ریفرنس لائبریری کے انہدام کے بارے میں سوشل میڈیا پر حالیہ قیاس آرائیوں کے سلسلے میں معززین اور افسروان و اسٹیک ہولڈرز کی ایک مشترکہ سروے ٹیم جس میں ایم پی اے جناب محمد سلیم بلوچ ، اسسٹنٹ کمشنر مراد میمن اور مختیار کار مراد میمن نے ایکسپریس وے پروجیکٹ ڈاریکٹر کے ہمراہ ریفرنس لائبریری کا دورہ کیا اور ٹیم نے تصدیق کی کہ لائبریری مجوزہ انٹرچینج کے وجہ سے متاثر نہیں ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ سندھ حکومت اور ضلعی انتظامیہ ملیر واضح طور پر تعلیم اور کتب بینی کے فروغ دینے میں لائبریری کے بنیادی کردار پر زور دیتی ہے، اور علاقے کے ثقافتی ڈھانچے میں لائبریری کی اہم اہمیت کو نظرانداز نہیں کرسکتی ہے۔
مزید برآں، مزید لائبریریوں کے قیام کی پرجوش وکالت اور پڑھنے اور سیکھنے کے کلچر کو پروان چڑھانے میں مثبت کردار ادا کریگی۔
ضلعی انتظامیہ ملیر کی درخواست پر ملیر ایکسپریس وے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باؤنڈری وال کی تعمیر کے علاوہ دیگر معمولی مرمت اور تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ کتابیں بھی فراہم کی جائیں گی۔
لیکن اب تک سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ حکومتی سطح پر کوئی ٹیم نے لائبریری کا دورہ کیا اور یقین دہانی کرائی ہو کہ لائبریری کو مسماری کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
اور اب تک یہ بھی معلوم نہ ہوسکی کہ اس خبرمیں صداقت ہے یا محض ایک پروپیگنڈہ ہے ۔