کراچی : ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر میں سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کومسماری سامنا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی میں ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر میں جہاں دوسرے عمارات کو انہدام کا سامنا ہے اسی طرح بلوچ و بلوچستان کی علمی ادارہ سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کومسماری سامناہے۔

اطلاعات ہیں ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے، 39 کلومیٹر لمبی ہائی وے کی بھاری مشینری ملیر قائد آباد پُل تک پہنچ گئی ہے۔

ملیر ایکسپریس وے عملے کی جانب سے لگائے گئے نشانات کے مطابق غلام محمد بلوچ گوٹھ کے نصف حصے میں موجود مکان و دکان مسمار کئے جائینگے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ملیر قائد آباد پُل کے توسیع کا کام بھی شروع ہونے والا ہے۔ رات گئے ملیر قائد آباد پُل کے اُس پار موجود ملیر کی سب سے بڑی پبلک لائبریری سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ کی عمارت پر نشانات لگائے گئے ہیں۔

نشانات کی تصاویر و وڈیو وائرل ہونے کے بعد کراچی کی علمی ادبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم یہ معلوم نہ ہوسکا کہ نشان کس ادارے نے لگائے ہیں۔

سید ہاشمی ریفرنس لائبریری انتظامی کمیٹی کے صدر اکبر ولی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہم نے ملیر کے منتخب نمائندوں سے رابطہ کیا ہے لیکن کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ لائبریری کس منصوبے کے زد میں آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچی زبان کے مشہور ماہر لسانیات، ناول نگار اور شاعر سید ظہور شاہ ہاشمی سے منسوب اس لائبریری کا سنگ بنیاد دسمبر 2003 میں لال بخش رند نے رکھا۔

لائبریری میں 14 ہزار سے زائد کتب موجود ہیں، ہم لائبریری کی جانب سے تاحال 40 سے زائد کتب شائع کر چکے ہیں۔ سینکڑوں نوجوان یہاں مطالعہ کرتے ہیں۔

اکبر ولی نے کہا کہ ملیر کی عوام لائبریری کو مسمار ہونے نہیں دیگی۔

Share This Article
Leave a Comment