نیتن یاہو خود کو بچانے کیلئے غزہ جنگ کو طول دے رہے ہیں، بائیڈن

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو خود کو سیاسی طور پر بچانے کے لیے غزہ جنگ کو طول دے رہے ہیں۔

یہ بات انہوںنے ایک تازہ ترین انٹرویو میں کہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پر یقین کرنے کی "ہر وجہ” موجود ہے کہ نیتن یاہو خودکو سیاسی طور پر بچانے کے لیے غزہ کی جنگ کو طول دے رہے ہیں۔

صدر جو بائیڈن نے منگل کو شائع ہونے والے انٹرویو میں غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے طرز عمل اور فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تنقید کی۔

ایک ایسے وقت میں جب جنگ آٹھ ماہ کے قریب پہنچ رہی ہے، اسرائیلی رہنما کو، متضاد مطالبات کا سامنا ہے، ایک طرف بائیڈن اور دیگر عالمی رہنماؤں کی طرف سے اس تنازعہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی پارلیمنٹ میں دائیں بازو کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت میں نیتن یاہو کی حمایت ترک کر دیں گے اور ان کی حکومت کو ختم کر دیں گے، اگر وہ غزہ میں حماس کے کنٹرول کے آخری نشانات کو مٹائے بغیر جنگ بندی سے اتفاق کرتے ہیں۔

حماس نے منگل کو کہا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی معاہدے پر رضامند نہیں ہو سکتے جب تک کہ اسرائیل مستقل جنگ بندی اور غزہ سے فوجیوں کے مکمل انخلاء کا "واضح” وعدہ نہیں کرتا۔

نیتن یاہو متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ اسرائیلی افواج حماس کے تمام عناصر کو ختم کیے بغیر غزہ سے نہیں جائیں گی۔

قطر نے بھی، جو امریکہ اور مصر کے ساتھ، قاہرہ میں حماس اسرائیل مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے، اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ارادوں کے بارے میں واضح موقف فراہم کرے جس کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس کی پوری حکومت کی حمایت حاصل ہو۔

کچھ دن پہلے، ٹائم میگزین نے بائیڈن سے ایک انٹرویو میں،جو منگل کو شائع ہوا ہے، پوچھا کہ کیا ان کا خیال ہے کہ نیتن یاہو خود کوسیاسی طور پربچانے کے لئے جنگ کو طول دے رہے ہیں؟

بائیڈن نے جواب میں کہا، "لوگوں کے اس نتیجے پر پہنچنے کیلیے ہر وجہ موجود ہے۔”

لیکن جب منگل کو بعد میں رپورٹرز نےان سے اس تبصرے کے بارے میں پوچھا کہ آیانیتن یاہو جنگ کے ساتھ سیاست کر رہے ہیں، تو بائیڈن نےبظاہر پیچھے ہٹتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا، "مجھے ایسا نہیں لگتا۔ وہ ایک سنگین مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

بائیڈن نے تسلیم کیا کہ ان کے اور نیتن یاہو کے تعلقات کشیدہ ہیں کیونکہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 36,000 سے تجاوز کر گئی ہے، ان اعداد و شمار میں عام شہری اور جنگجو شامل ہیں۔

بائیڈن نے کہا، نیتن یاہو سے میرا ایک بڑا اختلاف یہ ہے کہ غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا؟ کیا اسرائیلی افواج واپس اس کے (غزہ کے) اندر چلی جائیں گی؟

انہوں نے کہا،”جواب ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کارگر ثابت نیں ہوسکتا۔”

بائیڈن نے گزشتہ ہفتے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیلی تجویز کا اعلان کیا تھا اور اس کی عالمی حمایت پر زور دیا تھا۔ لیکن حماس نے ابھی تک اس سے اتفاق نہیں کیا ہے، اور نیتن یاہو نے اس کے بارے میں اپنا موقف ظاہر نہین کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment