بھارت میں پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی لوگ سبھا کے لیے ہونے والے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ گزشتہ دو انتخابات کے مقابلے میں اس بار بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
انڈیا کی سیاست میں ایک دہائی تک نمایاں رہنے والی مودی کی جماعت بی جے پی سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھے گی تاہم منگل کے روز آنے والے انتخابی نتائج سے پارٹی کو دھچکہ لگا، جس کے بعد اسے مرکز میں حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہو گی۔
حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت سازی کے لیے ضروری اکثریت سے دور ہے۔ تاہم حکمران اتحاد ’نیشنل ڈیموکریٹک الائنس‘ (این ڈی اے) کو اکثریت ملنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلیوسیو الائنس‘ (انڈیا) کافی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حکمران اتحاد این ڈی اے کو 295 اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلیوسیو الائنس‘( انڈیا) کو 235 سیٹیں ملی ہیں۔
حکومت سازی کے لیے 272 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
حکومت کس اتحاد کی بنے گی کس کی نہیں؟ فی الحال حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابھی رجحانات کی بنیاد پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ 19 اپریل سے یکم جون تک بھارت کی مختلف ریاستوں میں لوک سبھا کی 543 نشتوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے۔
انتخابات میں لگ بھگ ایک ارب لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جن میں سے 66 فی صد سے زیادہ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔
تجزیہ کار انتخابات میں حکمراں جماعت بی جے پی کو بھاری اکثریت نہ ملنے کی وجوہات ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، فوج میں بھرتی کی متنازعہ اصلاحات اور مودی کی جارحانہ اور تفرقہ انگیز مہم کو قرار دے رہے ہیں۔
مودی کے انتخابی نعرے ’اب کی بار 400 پار‘ کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک بھر سے 400 سیٹیں حاصل کر پائیں گے تاہم ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
دوسری جانب بی جے پی کی حریف جماعت کانگریس کا غیر متوقع طور پر سنہ 2019 کے الیکشن کے مقابلے میں دوگنی نشستیں حاصل کرنا تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اب سے کچھ دیر قبل پریس کانفرنس میں اپنے انڈیا اتحاد کی جانب سے ملک میں حکومت بنانے کے امکان کو یکسر طور پر مسترد نہیں کیا۔
جب ایک صحافی نے راہل گاندھی سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ’ان کی جماعت اتحادیوں کے ساتھ کل ملاقات کر کے اس معاملے پر بات چیت کرے گی۔‘
اس بیان کے بعد انڈین الیکشن کے انتخابی نتائج اور مرکز میں حکومت بنانے کی بحث مزید دلچسپ ہو گئی ہے۔
ابھی کچھ دیر میں مودی کی جماعت بی جے پی کی جانب سے بھی پریس کانفرس متوقع ہے جو ہمیں انڈیا میں مرکزی حکومت بنانے کے حوالے سے مزید وضاحت دے گی۔