بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچوں کی جبر ی گمشدگیوں و نسل کش پالیسی کو روکنے والا کوئی نہیں، ڈیرہ بگٹی وگوادر سے مزید 2 نوجوانوں کو جبری طور پرلاپتہ کردیا گیا ہے ۔
ساحلی شہر و سی پیک مرکز گوادر سے فوج نے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت امان علی ولد علی کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کو فوج نے سولہ روز قبل نلینٹ کلانچ سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔ جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
اسی طرح ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے علاقے شاہ علی کالونی سے 15 مئی کوفورسز نے ایک نوجوان حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
لاپتہ کیے گئے نوجوان کی شناخت فہد ولد ڈوٹا موندرانی بگٹی کے نام سے ہوگئی ہے ۔
علاقہ مکینوں کے دعوے کے مطابق سوئی میں پچھلے 3 ہفتوں کے دوران 50 سے زائد نوجوانوں کو فوج اور سی ٹی ڈی نے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ایما پر جبری طور پر لاپتہ کردیا گیاہے۔