بی ایس او کے چیئرمین بالاچ قادرنے سینئر وائس چیئرمین نزیر بلوچ سینیئر جوائنٹ سیکریٹری مقبول بلوچ سیکریٹری اطلاعات شکور بلوچ اور مرکزی کمیٹی کے رکن بیبگر واحد بلوچ کے ہمراہ سانحہ بسیمہ کے حوالے سے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک روٹ پر موت کا ایک بازار گرم ہے۔
واضع رہے کہ گذشتہ روز بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے بسیمہ میں تربت سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ تیز رفتاری سے کے باعث ٹائر بر سٹ ہونے کے بعد گہری کھائی میں جاگری۔
حادثے میں 28 افراد ہلاک ہوگئے جن مین خواتین اور بچوں سمیت ،20 افراد شدید زخمی ہوگئے۔
ہلاک ہونے والے افراد میں طلبا اور اساتذہ بھی شامل تھے ۔
پریس کانفرنس میں بالاچ قادر کا کہنا تھا کہ بسیمہ میں انتہائی دردناک حادثہ پیش آیا۔ بلوچستان کا ہر فرد اور گھر سوگ میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں روڈ حادثات قدرتی نہیں، سی پیک روٹ پر موت کا ایک بازار گرم ہے۔
بالاچ قادر نے کہا کہ روزانہ کے حادثات میں کئی اہم جانیں ضائع ہوجاتی ہیں، حادثے کے بعد حکومتی دعوے جھوٹ کا ملبہ ہے۔ ٹریفک حادثہ ڈھائی بجے ہوا جبکہ سورج نکلنے کے بعد لوگوں کو پتا چلا۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو کھائی سے نکالا، حکومت صبح 10 کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی، اس پوری روٹ پر کوئی میڈیکل سینٹر نہیں ہے۔
بالاچ قادرنے کہا کہ حکومت کے بعد ٹرانسپورٹرز کا بھی لوگوں کے قتل میں حصہ ہے، پوری روٹ پر ہائی وے پولیس کا کوئی نمائندہ نظر نہیں آتا، مکران روٹ پر چلائی جانیوالی گاڑیاں ناکارہ ہوتی ہیں۔
انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا بسیمہ حادثے کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن تسکیل دے۔