جرمن نشریاتی ڈی ڈبلیو کی ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہےکہ بنگلہ دیش اور سری لنکا نے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سکیورٹی اہلکاروں کو اقوام متحدہ کے امن دستوں میں تعیناتی کے لیے بھجوایا۔
اقوام متحدہ کی امن فوج میں مبینہ طور پر بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ایسے سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، جو اپنے ممالک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں۔
اس بات کا انکشاف ڈی ڈبلیو، سویڈن میں قائم تحقیقاتی صحافت کے ادارے نیترا نیوز اور جرمن اخبار زُوڈ ڈوئچے سائٹُنگ نے اپنی ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ہے۔
اس مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں بنگلہ دیش کی بدنام زمانہ ریپڈ ایکشن بٹالین یا ریب کے، جن افسران کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں اس ادارے کی خفیہ شاخ کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے علاوہ دیگر کئی اہلکار بھی شامل ہیں، جو ریب میں قائم ڈیٹھ اسکواڈ‘‘ کے ارکان بھی رہے ہیں۔
اس مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے جمہوریہ کانگو میں تعینات امن مشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس امن دستے میں شامل اہلکاروں کی 2022ء میں لی گئی ایک گروپ سیلفی سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ ان میں شامل بنگلہ دیشی اہلکار دراصل ریب کے ڈیتھ اسکواڈ کا ایک سابقہ رکن تھا۔
بنگلہ دیش کی پولیس اور فوج پر مشتمل یہ فورس 2004 ء میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی مدد سے دہشت گردی اور پرتشدد جرائم سے لڑنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ لیکن اس کی جانب سے اختیار کیے گئے وحشیانہ تشدد کے طریقوں کی وجہ سے یہ جلد ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا شکار ہو گئی۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کبھی ریب کے قیام میں مدد دینے والی امریکی انظامیہ نے 2021 میں اس پر پابندیاں عائد کر دیں۔ گزشتہ سال ریب کے حوالے سے شائع ہونے والی ڈی ڈبلیو اور نیترا نیوز کی ایک مشترکہ تحقیقات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کی یہ سکیورٹی فورس تشدد، قتل اور اغوا کا ارتکاب کرتی ہے اور پھر یہ اپنے ان جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیےکسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ اس کے اہداف میں مبینہ مجرم، اپوزیشن کے کارکن اور انسانی حقوق کے محافظ شامل ہیں۔
اس ادارے کے اندر سے ہی اس کے غلط اقدامات کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے والے دو افراد کے مطابق بظاہر ریب کے اراکین بنگلہ دیش میں اعلیٰ ترین سیاسی سطح کے احکامات کی روشنی میں کام کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے، جسے ڈھاکہ حکومت بے بنیاد اور جھوٹا‘‘ قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔
ڈی ڈبلیو اور اس کے شریک تحقیق کار اداروں کی جانب سے ریب کے بارے میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے ایک سال بعد اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث ریب کے اہلکاروں کو اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں تعیناتی کے لیے بھجوایا جا رہا ہے۔
اب مہینوں تک کی جانے والی اس تازہ تحقیق کے لیے بنگلہ دیش اور اس سے باہر فوجی حکام اور اقوام متحدہ کے مختلف ذرائع کے ساتھ انٹرویوز کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ خفیہ فوجی فائلوں، امن مشن میں تعیناتی کی فہرستوں اور بڑی محنت سے فلکر، لنکڈ اِن اور فیس بک کے ذریعے ان افسران کی شناخت کی گئی۔
اس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ریب کے ایک سو سے زائد افسران کو اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں تعیناتی کے لیے بھجوایا گیا اور ان میں سے چالیس کو صرف گزشتہ پانچ برسوں کے دوران یہ ذمہ داری سونپی گئی۔
اگرچہ ان تحقیقات میں اس بات کا ثبوت موجود نہیں ہے کہ ریب کے ان تعینات کردہ افسران میں سے ہر ایک انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھا تاہم ان میں سے کم از کم تین یعنی نعیم اے، حسن ٹی اور مسعود آر نے ریب کے بدنام زمانہ انٹیلی جنس ونگ کے لیے کام کیا، جبکہ ان میں سے دو ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔
متعدد ذرائع کے مطابق ریب خفیہ یونٹ پورے بنگلہ دیش میں ٹارچر سیلوں کا ایک خفیہ نیٹ ورک چلاتا ہے، جن میں سے کچھ خفیہ طور پر گھروں میں جبکہ باقی ریب دفاتر کے کمپاؤنڈز کے اندر قائم کیے گئے ہیں۔ ریب اہلکاروں کے تشدد میں زندہ بچ جانے والوں اور فوجی ذرائع نے ڈی ڈبلیو اور نیترا نیوز کو ان اہلکاروں کی جانب سے مار پیٹ، فرضی پھانسیاں دینے، واٹر بورڈنگ اور بجلی کے جھٹکے لگانے کے بارے میں بتایا۔
ریب کے ایک سابق رکن نے وضاحت کی کہ ان کے پاس تفتیش کے لیے دستیاب تمام اوزار موجود ہیں۔‘‘ ایک خاص وحشیانہ طریقہ، جس کا اس رکن نے مشاہدہ کیا تھا، وہ ایک قیدی کو لوہے کے ایک کنٹینر میں بند کر کے اس کے نیچے آگ جلا دینا تھا۔ اس رکن کے مطابق ،کسی وقت درجہ حرارت ناقابل برداشت ہو جاتا ہے کہ زیرحراست شخص بول اٹھتا ہے۔‘‘
ان ٹارچر سیلوں میں عام شہریوں سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ریب کے ایک ذریعے نے ڈی ڈبلیو اور اس کے شریک تحقیق کاروں کو بتایا کہ اقوام امن مشن میں تعینات ریب کے دونوں ڈپٹی ڈائریکٹرز بھی تشدد اور پھانسی جیسے جرائم میں ملوث رہے تھے۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی لیکن کئی دوسرے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ امکان ہے کہ کمانڈ کی ذمہ داری والے افسران کم از کم یہ جانتے ہوں گے کہ ان ٹارچر سیلز میں کیا ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری کے کہنے پر اقوام متحدہ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد قیام امن کے لیے اپنے رکن ممالک کے فوجیوں اور پولیس افسران پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔ اقوام متحدہ کے ان امن دستوں کی منظوری سلامتی کونسل دیتی ہے اور ان کی تعیناتی تب کی جاتی ہے جب دنیا کے کسی ملک میں حکومت ناکام ہو جائے اور وہ ملک اندرونی انتشار کا شکار ہو جائے۔