بلوچستان کے مختلف علاقوں مچھ بولان ،گوادر اور تربت سے پاکستانی فورسز نے 5 نوجوانوں کوحراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
گوادر سے لاپتہ ہونے والوں میں سعد ولد موسیٰ اور فرہاد ولد غفور نامی نوجوان شامل ہیں جبکہ مچھ بولان سے لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت کامران عرف ملک شاہ ولد عبدالباقی کے نام سے ہوگئی ہے۔
دوسری فوج و دیگر فورسز نے ضلع کیچ کے علاقے میری قلات میں رات گئے ایک گھر پر چھاپہ مارکرسجاد اور قدیر نامی 2 سگے بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بناکر اپنے ساتھ لے گئے جبکہ بعد ازاں ایک بھائی کو چھوڑ دیا گیا جو بری طرح زخمی ہے۔
سجاد اور قدیر کے فیملی کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب ساڑھے گیارے بجے فوج اور دیگر فورسز نے میری قلات میں ہمارے رہائشگاہ پر چھاپہ مارا اور میرے دو بھائیوں کو زبردستی اٹھایا ۔
فیملی کا کہنا تھا کہ آدھے گھنٹے تک فورسز ہمارے گھرمیں موجود رہے اور پورا علاقہ محاصرہ کیا گیا تھا۔گھر کے تمام خواتین وبچوں کو گھر میں بندکرکے باہر کنڈالگایا گیا اورہم کھڑکیاں توڑکر باہرنکل آئے اور سجاد وقدیر کوزبردستی لے جانے پرمزاحمت کی جس پر فورسز نے ہمیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور ہمارے سروں کے دوپٹے وچادریں بھی کھینچیں ۔لیکن وہ سجاد وقدیر کو اپنے ساتھ لے گئے۔
اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ایک بھائی کو شدید تشدد کے بعد رات 2 بجے کیچ کور ندی میں چھوڑا گیا اور دوسرا بھائی تاحال لاپتہ ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ اگر اسے رہا نہ کیا گیا تو ہم اہل محلہ آج ڈی بلوچ مقام پر دھرنا دیکر روڑڈبلاک کردینگے۔