امریکانے ضبط کردہ ایرانی ہتھیار یوکرین کے حوالے کردیئے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ انفنٹری میں استعمال ہونے والے ہزاروں ہتھیار اور پانچ لاکھ سے زائد تعداد میں گولہ بارود یوکرین منتقل کردیے گئے ہیں۔ ایران سے یمن میں حوثیوں کو بھیجے گئے یہ ہتھیار امریکہ نے ایک سال قبل ضبط کر لیے تھے۔
امریکی فوج نے منگل کے روز بتایا کہ گزشتہ ہفتے یوکرین بھیجے گئے یہ ہتھیار وہ تازہ ترین فوجی امداد ہے جو امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے کییف حکومت کو روس کے زیر قبضہ ملکی علاقے واپس لینے کے جنگ کے لیے فراہم کی ہے۔
امریکی کانگریس میں ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن کی طرف سے 60 بلین ڈالر کی نئی سکیورٹی امداد کو منظور کرنے سے انکار کے بعد صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے کییف کو مزید امریکی ہتھیاروں کی فراہمی التوا میں پڑ گئی ہے۔
یوکرینی فوج کو ہتھیاروں اور گولہ بارود بالخصوص بھاری توپ خانے کے لیے گولوں کی کمی کا سامنا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی کییف حکومت کو ہتھیار فراہم کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ چار اپریل کو امریکہ کی طرف سے کییف کو منتقل کیا گیا اسلحہ ایک یوکرینی بریگیڈ کو ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لیے کافی تھا۔