بھارت : اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری کیخلاف نئی دہلی میں احتجاجی مظاہرہ

0
23

بھارت کے راجدھانی دہلی کے وزیر اعلیٰ اورعام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما اروند کیجریوال کو مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں گرفتار کرنے کے خلاف ’سیو ڈیموکریسی‘ ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

اتوار کے روز بھارتی شہر نئی دہلی میں اپوزیشن پارٹیز کی جانب سے ایک ریلی کا انعقاد ہوا، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

’’سیو ڈیموکریسی‘‘ ریلی 21 مارچ کو نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈراروند کیجریوال کی گرفتاری کے خلاف اپوزیشن بلاک انڈیا کا پہلا بڑا عوامی مظاہرہ تھا۔

کیجریوال پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کی پارٹی اور ریاستی وزراء نے دو سال قبل شراب کے ٹھیکیداروں سے ایک ارب بھارتی روپے رشوت لی تھی۔ انہیں فیڈرل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہے۔

کیجریوال کی سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ کیجریوال تب تک نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے دستبردار نہیں ہوں گے، جب تک عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آجاتا۔

کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز دیپندر سنگھ ہوڈا نے ریلی میں موجود صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، یہ جنگ ملک، جمہوریت، آئین، قوم کے مستقبل، نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کی حفاظت کے لیے ہے۔ یہ جنگ انصاف اور سچائی کے لیے ہے۔‘‘

کیجریوال رواں سال 19 اپریل کو ہونے والے بھارت کے عام انتخابات میں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیے جاتے ہیں۔ اب ان کی گرفتاری کو اپوزیشن بلاک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کیجریوال کی گرفتاری کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے اور بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے وفاقی ایجنسی کا استعمال کر رہی ہے۔

کانگریس پارٹی کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی، جو اس ریلی میں بھی شریک تھے، نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا، نریندر مودی جمہوریت کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں اور عوام سے اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کا اختیار چھیننا چاہتے ہیں۔‘‘

واضع رہے کہ بھارت میں اگلے ماہ انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اس ریلی کا مقصد آنے والے انتخابات سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اپوزیشن مخالف پالیسیوں اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here