سوئس ٹیکنالوجی کمپنی آئی کیو ایئر کی جانب سے دنیا بھر میں فضائی معیار سے متعلق منگل کو اپنی جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان کوسن 2023 میں دنیا کے تین بڑے آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں شامل کیاجبکہ دیگر دو ممالک بھارت اور بنگلہ دیش بھی تھے جنہوں نے وسطی افریقی ملک چاڈ اور ایران کی جگہ لی۔
رپورٹ میں ان ممالک کی فضا میں مضرِ صحت زرات کی شرح عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے تجویز کردہ سطح سے 15 گنا تک زیادہ رہی۔
رپورٹ کے مطابق 2023 میں پانچ سب سے زیادہ آلودہ ترین ممالک میں بنگلہ دیش، پاکستان، بھارت، تاجکستان اور برکینا فاسو شامل رہے۔
آئی کیو ایئر کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے والے زرات جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے کی شرح بنگلہ دیش میں 79.9 مائیکروگرام فی کیوبک میٹرک جا پہنچی تھی۔ پاکستان میں یہ شرح 73.7 رہی۔ اسی طرح بھارت میں یہ شرح 54.4 مائیکروگرام فی کیوبک میٹرک رہی۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ سطح صرف پانچ مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر اور دسمبر کے درمیان پاکستان کے بڑے شہروں میں اسموگ کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستان کا دوسرا بڑا شہر لاہور ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں اس عرصے کے دوران کئی مواقع پر سرِ فہرست رہا تھا جس کا ایئر کوالٹی اندیکس 400 سے بھی تجاوز کرتا رہا۔ دسمبر میں اسموگ کے خاتمے کے لیے پنجاب کی حکومت نے مصنوعی بارش کا بھی تجزیہ کیا تھا۔
عالمی اداروں کے مطابق صحت بخش فضا کے لیے اے کیو آئی ایک سے 50 کے درمیان ہونا چاہیے۔ 400 سے 500 کے درمیان اے کیو آئی کو صحت کے لیے مضر قرار دیا جاتا ہے۔
سوئس ایئر مانیٹرنگ آرگنائزیشن سے وابستہ ماہر کرسٹی چیسٹر شروڈر کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کا جغرافیے اور آب و ہوا کی وجہ سے آپ کو یہ شرح آسمان سے چھوتی دکھائی دیتی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی اور زرعی شعبے میں کام کرنے کے طریقے وہ عوامل ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک میں یہ حالات ہیں۔
اُن کے بقول "بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ یہ بہتر ہونے سے پہلے مزید بدتر ہو گا۔”
رپورٹ کے مطابق جو ممالک عالمی ادارۂ صحت کے تجویز کردہ معیار پر پورا اترتے ہیں ان میں آسٹریلیا، ایسٹونیا، فن لینڈ،گریناڈا، آئس لینڈ، ماریشس اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔
منگل کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق سن 2022 میں بنگلہ دیش آلودہ ترین ملکوں کی فہرست میں پانچویں جب کہ بھارت آٹھویں نمبر پر تھا۔