بحیرہ روم میں ایک ہفتے کے دوران 60 تارکین وطن ڈوب کر ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بحیرہ روم میں انسانی ہمدردی سے متعلق ریسکیو گروپ ’ایس او ایس‘ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وسطی بحیرہ روم میں ربڑ کی ایک کشتی سے بچائے جانے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ ان کے ساتھ ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ قبل لیبیا سے جو لوگ روانہ ہوئے تھے ان میں سے 60 سے زیادہ سفر کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

یورپی خیراتی ادارے کے جہاز ’اوشن وائیکنگ‘ نے بدھ کے روز ربر کی اس چھوٹی کشتی کا پتہ چلایا جس پر 25 لوگ سوار تھے ۔ دو بے ہوش تھے ، اور انہیں ایک اطالوی کوسٹ گارڈ ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاج کے لیے ساٹھ میل شمال میں واقع لیمپاڈوسا کے سسلیین آئی لینڈ لے جایا گیا ۔

باقی 23 کی حالت بہت خراب تھی ، وہ تھکے ہوئے ، پانی کی کمی کا شکار اور کشتی کے پٹرول سے جلے ہوئے تھے

بحیرہ روم ،ایس او ایس کے ترجمان فرانسسکو کریازو نے کہا کہ زندہ بچ جانے والے تمام افراد مرد تھے ان میں سے بارہ لڑکے تھے جن میں سے دو کی عمر تیرہ سال سے کم تھی۔

کریازو نے بتایا کہ زندہ بچ جانے والے شدید صدمے کی حالت میں تھے اور انہیں بحری سفر کے دوران جو کچھ پیش آیا اس کے بارے میں پوری طرح سے بات نہیں کر پا رہے تھے ۔

کریازو نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ لاپتہ اور ممکنہ طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی کبھی بھی تصدیق کی جا سکے ۔ انسانی ہمدردی کی تنظیمیں جب سمندر میں ممکنہ طور پر ہلاک یا لاپتہ ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ لگاتی ہیں تو اکثر اوقات زندہ بچ جانے والوں کے بیانات پر انحصار کرتی ہیں ۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی’ آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘ کا کہنا ہے کہ رواں سال 11 مارچ تک 227 افراد وسطی بحیرہ روم کے خطرناک بحری سفر میں ہلاک ہو چکے ہیں، اس تعدا میں نئےلاپتہ ہونے والےاوروہ افراد شامل نہیں ہیں جن کے لئے مفروضہ ہے کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔

یہ اس برس جنوری سے اب تک بحیرہ روم میں ہونے والی کل 279 اموات میں شامل ہیں۔ اس عرصے میں کل 19,562 افراد اس راستے کے ذریعہ اٹلی پہنچے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment