اروناچل پردیش ہمارا ہے، چین کا مودی کے دورے پردعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

چین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ اروناچل پردیش پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ چینی علاقہ ہے اور بیجنگ اروناچل پردیش کو تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم نئی دہلی نے چینی اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اروناچل پردیش کے حوالے سے بیجنگ کے اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ چین کے اعتراضات ’’درست‘‘ نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ مودی نے نو مارچ کے روز بھارت کے زیر انتظام شمال مشرقی علاقے اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا اور وہاں بعض ترقیاتی منصوبوں کا بھی اعلان کیا تھا۔ دونوں ملکوں کی سرحد پر واقع یہ علاقہ متنازع ہے، جسے چین زنگنان کہتا ہے۔

نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ اس طرح کے ’’دوروں یا بھارت کے ترقیاتی منصوبوں پر اعتراض کرنا معقول بات نہیں ہے۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ’’ہم وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اروناچل پردیش کے بارے میں چین کے تبصروں کو مسترد کرتے ہیں۔ بھارتی رہنما ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ہی وقتاً فوقتاً اروناچل پردیش کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق، ’’اس سے یہ حقیقت نہیں بدلے گی کہ ریاست اروناچل پردیش بھارت کا ایک اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘

پیر کے روز چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین سے جب مودی کے دورے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ چین بھارتی رہنما کی جانب سے چین۔بھارت سرحد کے مشرقی حصے کے دورے کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور اس مخالفت بھی کرتا ہے، ’’ہم نے اس سلسلے میں بھارت سے بات بھی کی ہے۔‘‘

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا،’’زنگنان کا علاقہ چینی علاقہ ہے۔ چینی حکومت نے کبھی بھی بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے نام نہاد ’اروناچل پردیش‘ کو تسلیم نہیں کیا اور وہ اس کا سخت مخالف بھی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی مسئلہ ابھی حل ہونا باقی ہے، ’’بھارت کو من مانی کرتے ہوئے زنگنان کے علاقے کو ترقی دینے کا کوئی حق نہیں۔ بھارت کے ایسے اقدامات سرحدی معاملات کو مزید پیچیدہ کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں کی صورتحال کو متاثر کریں گے۔‘‘

واضح رہے کہ بھارت اور چین کی سرحد پر واقع ریاست اروناچل پردیش فی الوقت بھارت کے زیر کنٹرول ہے، جس پر چین اپنی خود مختاری کا دعوی کرتا ہے اور اسے تبت کا ایک حصہ قرار دیتا ہے۔ چین اروناچل کے شہریوں کو بھارتی پاسپورٹ پر ویزا بھی جاری نہیںکرتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment