شہید باسط جان کی کچھ یادیں | مبارک بلوچ

0
110

شہید باسط عرف محمد اعظم سکنہ مشکے آچڑین سن 1988 میں غلام رسول کے ہاں پیدا ہوا۔

آپ محنتی و جفاکش تھے ۔آپ تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن آپ بچپن سے بلوچستان کی آزادی کا جذبہ لیے زندگی بسر کررہے تھے ۔

شہید باسط جان کے گھروں کو کئی دفعہ پاکستانی فورسزنے نذر آتش کیا تھا۔ وہ 2008 سے بی ایل ایف کے دوزواہ کے حیثیت سے کام کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود بھی ا س کا حوصلہ کبھی پست نہیں ہوا، یہی جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ 2013 میں بلوچ قومی آزادی کی مسلح محاذ بی ایل ایف سے منسلک ہوگئے۔

وہ ایک غیرمعمولی صلاحیتوں کامالک اور ایک گوریلا سرمچار تھ۔ اپنی آخری گولی و آخری سانس تک اس نے اپنی پوزیشن دشمن کے ہاتھ لگنے نہیں دیا۔

اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ محاذذجنگ میں کئی دفعہ دشمن کو شکست دے کر بھاگنے میں مجبور کیا ۔

اس راستے میں کئی معرکے سر کرنے کے بعد شہید باسط جان 30 دسمبر 2023 کو اپنے ساتھیوں سمیت وطن کی خاطر اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جام شہادت نوش کیا اور تاابد امر ہوگیا ۔

ایک بار میں اورباسط گھر سے نکل کر موٹر سائیکل پہ بازار جارہے تھے۔ میں موٹر سائیکل چلا رہا تھا اور وہ پیچھے بیٹھے تھے۔راستے میں ہمارا ایک چھوٹا ساایکسیڈنٹ ہوگیا ۔سائیکل سے گرنے سے باسط کے چہرے پہ زخم آئے۔ اس کاچہرہ لہولہان دیکھ کر میں پریشان ہوگیاتھا۔

لیکن اس موقع پروہ کہہ رہے تھے کہ جتنا خون میرے جسم سے بہہ رہا ہے یہ بے معنی ہے، جس وقت یہ خون وطن ( بلوچستان) کے لیے بہہ جائے تو اس کا سواد ہی کچھ اور ہوگا۔

باسط کامزید کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت انسان ہوتا ہے جس کا لہو مادر وطن کی خاک کو رنگ حنا بخشے۔

اس دوران اس نے خود افسوس کیا اور کہا کہ کاش میرا خون وطن کے لیے بہہ جاتا تو مجھے بہت خوشی ہوتی ۔

میں نےکہا آپ مرنے کی بات کیوں کر رہے ہو ؟آپ کو اپنی جان پیاری نہیں ہے ؟ تو شہید باسط جان نے جواب دیا کہ جب ہم اپنے ہی وطن میں بیگانگی کا شکار ہوں ، اپنے ہی وطن غلام بن کر رہ جائیں تو اپنے وطن کے دفاع کے لیے جان کی قربانی سے ڈرتے نہیں ہیں ،غلامی کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے ۔

حادثے کے بعد ہم دونوں پھر سے موٹرسائیکل پر سوار ہوکر ہسپتال جارہے تھے کہ راستے میں ایف سی اہلکاروں نے ہمیں روکا۔ میں پریشان تھا کہ اب یہ مصیبت آگئی ہے۔

ایف سی والوں نے ہم سے پوچھ گچ کی کہ آپ لوگ کہاں سے آرہے ہو ؟ کہاں جا رہے ہو؟

اس موقع پر شہید باسط جان نے جواب دیا کہ یہ وطن ہمارا ہے، ہم یہاں کے رہنے والے ہیں، آپ یہ بتائیں کہ آپ کہاں سے ہو؟

تو ایف سی اہلکار نے بولا کہ پنجاب سے ہوں اورمیں آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے یہاں آیا ہوں ۔

تو شہید نے جواب دیا کہ یہاں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

٭٭٭

نوٹ: بلوچستان سے متعلق خبروں کے حصول کے لیے یہاں کلک کرکے سنگرآن لائن کے وٹس ایپ چینل کو جوائن کیجیئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here