جیئے سندھ فریڈم موومنٹ جسفم کی نیشنل کانگریس کا اجلاس ہوا جس میں سندھ کے 21 اضلاع کے عہدیداران اور کونسلرز نے شرکت کی ۔
اجلاس میں پارٹی کا کانووکیشن منعقد کیا گیا اور الیکشن کا انعقاد ہوا جس میں میں 7 رکنی مرکزی باڈی 3 سال کے اليکٹ ہوا۔
اجلاس میں جیئے سندھ فریڈم موومنٹ جسفم کی احتساب کمیٹی نے پارٹی کے سابق عہدیدار غلام حسین شابرانی ( حسین سندھی ) کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ جس میں بتایا گیا کہ حسین شابرانی ( حسین سندھی ) نے قومی اتحادی بلوچ قوم کے خلاف اور بلوچ قومی تحریک کے خلاف اور پشتونوں کے خلاف سوشل میڈیا پر لسانی بنیادوں پر نفرت انگیز بیانات دیکر سندھی بلوچ لسانی تصادم اور سندھی پشتون لسانی بنیادوں پر تصادم کروانے کی کوشش کی ۔
پارٹی نے اسے بار بار منع کیا مگر اس نے اپنے یہ عزائم نہ روکے اور مسلسل اشتعال انگیز بیانات دیتے رہے اور اسکے علاوہ سندھ کی مختلف آزادی پسند تحریکوں اور لیڈر شپ کے خلاف ان پر ذاتی اٹیک کرکے اشتعال انگیز بیانات سوشل میڈیا پر دیتا رہا اور مختلف وقتوں پر ٹوئٹر اسپیس میں پارٹی کی سیکریسی آئوٹ کرتا رہا ۔
پارٹی کے نام غیر قانونی فنڈنگ، لوگوں کو بلیک میل اور پارٹی کے ڈسیپلین کو توڑتا رہا جس پر پارٹی کے جیئمسٹ کونسل کے ادارے نے 07-05-2023 کو اسکی رکنیت 6 ماہ کے لئے معطل کرکے اس پر احتساب کمیٹی قائم کی گئی تھی۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ 06 جنوری 2024 کو جسفم کی نیشنل کانگریس میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ حسین شابرانی ( حسین سندھی ) پر پارٹی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام اور ایلیگیشن ثابت ہوئے ہیں اور وہ قصوروار ثابت ہوا ہے۔ اس نے اپنے عہدہ کا غلط استعمال کیا اور سندھ کیس کا استحصال کرکے غیر قانونی فنڈنگ کی۔
پارٹی کے نیشنل کانگریس کے اجلاس نے حسین شابرانی ( حسین سندھی ) کی پارٹی رکنیت ہمیشہ کے لیے ختم کر دی اور انہیں پابند کیا گیا کہ مستقبل میں جیے سندھ فریڈم موومینٹ جسفم کا نام استعمال نہ کرے ۔
نیشنل کانگریس میں بتایا گیا کہ پارٹی کی نیوز پیپر سندھودیش، پاکستانی ریاستی اداروں نے ڈپلیکیٹ بنا کر ھیک کردی ہے جس سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔