پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری دھرنا تحریک کوملٹری اسٹیبلشمنٹ تذلیل ،تشدد، گرفتاریوں اور و ہراسمنٹ کے ذریعے ختم کرنے کے درپے ہے ۔لیکن دوسری جانب دھرنا مظاہرین چٹان کی طرح پر عزم کھڑے ہیں اور ہر طرح کی ریاستی ظلم و بربریت کو چیلنج کرنے کیلئے تیار ہیں۔
ریاست کی جانب سے اپنی کنٹرول میڈیااورنام نہاد سول حکومت کے ذریعے پر امن مظاہرین کیخلاف بلوچ عسکریت پسندوں سے تعلق کا جھوٹابیانیہ اور سیکورٹی کے نام ہراسمنٹ سے بلوچ خواتین و مظاہرین پر مکمل طور پر زندگی تنگ کردی جارہی ہے ۔
کیمپ میں لاپتہ افراد لواحقین کی تعداد بڑھنے سے مظاہرین کو کھانا اور ٹھنڈ سے بچنے کیلئے ٹینٹ وکمبل سمیت دیگر ضرورت زندگی لانے کیلئے ریاست کی جانب سے مکمل ممانعت ہے ۔کیمپ کو چاروں اطراف سے فورسز نے محاصرے میں لے رکھاہے اور سب کی مکمل پروفائلنگ کی جارہی ہے ۔
ا س حوالے سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اوردھرنا مظاہرین کے قائد سمی دین بلوچ نے مائیکر بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پررات کے سمے کی کیمپ کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے ۔ انتہائی درجے کی سخت سردی سے مکمل طور پر فوگ ہے ۔
سمی بلوچ نے اپنے پوسٹ میںلکھا کہ یہ اسلام آباد کی کھلا آسمان ،موسم کی سختی چاروں طرف Fog اور ہم بلوچستان سے اپنا درد لے کر آنے والے لواحقین ہیں۔
اور مقتدرہ کا victim blaming کا پرانا رویہ ۔۔بوڑھے ضیف والدین چھوٹے چھوٹے بچے ریاستی جبر کے ساتھ ساتھ موسم کی سختی سے لڑھ رہے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان والوں دیکھ رہے ہو ؟ شہر اقتدار میں ہم کس اذیت سے گزر رہے ہیں ؟اگر ہمیں کچھ ہوا تو یہ لڑائی آپکی ہے ہم سب کی ہے ہم بار بار پیچھے موڈ کر ضرور دیکھیں گے آپ عوام ہی ہماری طاقت ہو ہمیں مایوس ہونے مت دینا۔