پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری دھرنا تحریک کوملٹری اسٹیبلشمنٹ تذلیل ،تشدد، گرفتاریوں اور و ہراسمنٹ کے ذریعے ختم کرنے کے درپے ہے ۔لیکن دوسری جانب دھرنا مظاہرین چٹان کی طرح پر عزم کھڑے ہیں اور ہر طرح کی ریاستی ظلم و بربریت کو چیلنج کرنے کیلئے تیار ہیں۔
اس سلسلے میں تحریک کے قائد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اگر یہ ریاست سمجھتی ہے کہ ہم یہاں اسلام آباد پولیس کے دھمکی آمیز لہجہ، تشدد اور گرفتاری سے خوفزدہ ہونگے اور اپنے احتجاج کو ختم کریں گے تو یہ ریاست کی بچگانہ سوچ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بلوچستان میں اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں کو کندھا دیا ہے، ہم نے اپنے دس دس نوجوانوں کے لاشوں کو ایک ساتھ دفنایا ہے، ہم نے اپنا بچپن پیاروں کے انتظار میں شدید تکلیف اور غم میں گزارا ہے، ہم نے اپنے ماؤں کی وہ تکلیف دیکھی جو ناقابل بیان ہے، ہم نے یتیم بچوں کی تکلیف دہ زندگیاں دیکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں یہاں تشدد اور گرفتاریوں سے ڈرانے کی کوشش کررہے ہو، تشدد اور گرفتاریوں سے وہ ڈرے جن کو کچھ کھونے کا ڈر ہو۔ ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں، ہمارا سب کچھ ہمارے پیارے تھے جو آپ نے ہم سے چھین لیے اب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھاکہ ہم اس جدوجہد کو بلوچ نسل کشی کے مکمل خاتمے تک جاری رکھے گے اور اس کے لیے ہر قسم کے قربانی دینے کو تیار ہے۔
واضع رہے کہ دھرنا مظاہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریاست اب ان کے خلاف مکمل طور پر کریک ڈائون کرے گی۔