ہمارے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں،تشدد و گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے،ڈاکٹر ماہ رنگ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری دھرنا تحریک کوملٹری اسٹیبلشمنٹ تذلیل ،تشدد، گرفتاریوں اور و ہراسمنٹ کے ذریعے ختم کرنے کے درپے ہے ۔لیکن دوسری جانب دھرنا مظاہرین چٹان کی طرح پر عزم کھڑے ہیں اور ہر طرح کی ریاستی ظلم و بربریت کو چیلنج کرنے کیلئے تیار ہیں۔

اس سلسلے میں تحریک کے قائد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اگر یہ ریاست سمجھتی ہے کہ ہم یہاں اسلام آباد پولیس کے دھمکی آمیز لہجہ، تشدد اور گرفتاری سے خوفزدہ ہونگے اور اپنے احتجاج کو ختم کریں گے تو یہ ریاست کی بچگانہ سوچ ہے۔

https://twitter.com/MahrangBaloch_/status/1742286955499360385

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بلوچستان میں اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں کو کندھا دیا ہے، ہم نے اپنے دس دس نوجوانوں کے لاشوں کو ایک ساتھ دفنایا ہے، ہم نے اپنا بچپن پیاروں کے انتظار میں شدید تکلیف اور غم میں گزارا ہے، ہم نے اپنے ماؤں کی وہ تکلیف دیکھی جو ناقابل بیان ہے، ہم نے یتیم بچوں کی تکلیف دہ زندگیاں دیکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں یہاں تشدد اور گرفتاریوں سے ڈرانے کی کوشش کررہے ہو، تشدد اور گرفتاریوں سے وہ ڈرے جن کو کچھ کھونے کا ڈر ہو۔ ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں، ہمارا سب کچھ ہمارے پیارے تھے جو آپ نے ہم سے چھین لیے اب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھاکہ ہم اس جدوجہد کو بلوچ نسل کشی کے مکمل خاتمے تک جاری رکھے گے اور اس کے لیے ہر قسم کے قربانی دینے کو تیار ہے۔

واضع رہے کہ دھرنا مظاہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریاست اب ان کے خلاف مکمل طور پر کریک ڈائون کرے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment