اسلام آباد میں جاری بلوچ دھرنا مظاہرین کو مسلسل ہراسمنٹ کا سامنا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میںبلوچ نسل کشی کیخلاف جاری بلوچ دھرنا مظاہرین کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مسلسل ہراسمنٹ کا سامنا ہے ۔

آج اسلام آباد پولیس نے مظاہرین پر پابندی لگائی ہے کہ وہ پولیس سے اجازت لیے بغیر دھرنا کیمپ میں کسی قسم کی کوئی بھی اشیائے ضرورت نہیں لاسکتے۔

واضع رہے کہ دھرنا کیمپ میں لاپتہ افراد لواحقین کی تعداد روز بروزبڑھ رہی ہے۔ بلوچستان و پاکستان بھر سے پختون ، گلگتی ،کشمیری ، سندھی ، سرائیکی ،پنجابی ودیگر اقوام کے لوگ اپنے لاپتہ پیاروں کی رجسٹریشن کر رہے ہیں۔

دھرنا کیمپ میں لواحقین کی تعداد بڑھنے سے ضرورت اشیائے کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے اسٹیلشمنٹ شدید اضطراب میں ہے ۔لاپتہ افراد لواحقین سمیت ہمدردی کیلئے کیمپ میں آنے والے افراد جو وہ لواحقین کیلئے کچھ نہ کچھ لےکر آتے ہیں ، انہیں روکا جارہا ہے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی کوئی بھی سامان ہماری اجازت کے بغیر اندر نہیں جائے گا جبکہ دوسری ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پولیس سے کہا ہے کہ یہ ضرورت کی اشیا ہیں انہیں لانے کیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں اگر کوئی قانون ہے تو اسے ہمیں دکھایا جائے ۔

https://twitter.com/BYCislamabad/status/1742122965834375639

پنجاب کی عوام کی جانب سے دھرنا مظاہرین کی حمایت سے ریاستی مشینری مکمل بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے اور وہ دھرنا کو سبوتاژ کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے لیکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پولیس کو کہا ہے کہ وہ کیمپ کے اگرتمام ٹینٹ بھی نکال کر لے جائیں تو ہم اس سردی میں زمین پر بیٹھنے کیلئے تیار ہیں لیکن دھرنا جاری رہے گا۔

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بین الاقوامی میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پرامن احتجاج جاری رہے گابس ہماری آواز دنیا تک پہنچائیں اوراس ریاست کا ظلم دنیا کو دکھاؤ، اس بات کا ثبوت دیں کہ بلوچ عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور ہمیں ان ظلم اور نسل کشی کے خلاف پرامن احتجاج کا حق بھی نہیں دیا گیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment