مودی حکومت نے ہائی پروفائل صحافیوں کو نشانہ بنایا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بھارت میں مودی حکومت پر تنقید کرنے والے بھارتی صحافی حکومت کے نشانے پر ہیں۔

اس سلسلے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے ایک اسرائیلی کمپنی کی طرف سے تیار کردہ پیگاسس اسپائی وئیر کے ذریعے پھر سے ہائی پروفائل صحافیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں مودی حکومت نے پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے ایک بار پھر ہائی پروفائل بھارتی صحافیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کی جانب سے تیار کردہ پیگاسس سافٹ وئیرموبائل فون میں موجود میسجز، ای میلز اور تصاویر تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ فون کالوں کو سننے اور لوکیشن ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھنے اور یہاں تک کے موبائل فون کے مالک کی فلم بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسپائی ویئر کے وسیع پیمانے پر استعمال کو دستاویزی شکل دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی عام طور پر صرف حکومتوں یا سکیورٹی ایجنسیوں کو فروخت کی جاتی ہے۔ تاہم بھارت سمیت درجنوں دیگر ممالک میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے خلاف ہو رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شائع کردہ حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی آن لائن نیوز آؤٹ لیٹ دی وائر سے منسلک صحافی سدھارتھ وردراجن اور دی آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ (او سی سی آر پی) کے آنند منگلے کے زیر استعمال آئی فونز کو اسپائی ویئر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکیورٹی لیب کے سربراہ ڈونچا اوسیئربھائل نے کہا، بھارت میں صحافیوں کو محض اپنے کام کرنے کے لیے بڑھتی ہوئی غیر قانونی نگرانی کے خطرے کا سامنا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان صحافیوں کے لیے پہلے سے موجود خطرناک ماحول کو مزید ہوا دیتا ہے جنہیں سخت قوانین کے تحت قید، بدنامی کی مہم، ہراساں کیے جانے اور دھمکیوں‘‘ کا سامنا ہے۔ بھارت کی حکومت نے فوری طور پر اس الزام کا جواب نہیں دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسپائی ویئر کے استعمال کا سب سے حالیہ تصدیق شدہ کیس رواں سال اکتوبر میں پیش آیا۔

نئی دہلی پر سال 2021ء میں یہ الزام لگا تھا کہ وہ پیگاسس کے ذریعے صحافیوں، حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی نگرانی میں مصروف ہے۔ لیک ہونے والی دستاویزات کے ساتھ یہ دکھایا گیا تھا کہ اسپائی ویئر کو 1,000 سے زائد بھارتی فون نمبروں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے اہم سیاسی حریف اور حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی بھی نشانہ بننے والوں میں شامل تھے۔ تاہم حکومت نے کسی بھی طرح کی ’غیر قانونی نگرانی‘ کرنے سے انکار کیا تھا لیکن مودی حکومت ان الزامات کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان تحقیقات کے نتائج کو بھی عام نہیں کیا۔

Share This Article
Leave a Comment