جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی صدر شاہ زین بگٹی نے سبی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے نام پرآج کئی نوجوان اپنے گھروں میں موجود ہیں، فرضی افراد کو کسی صورت منظر عام پر نہیں لایا جاسکتاجو پیدا ہی نہیں ہوئے مگر وہ لاپتہ ہوچکے ہیں۔
اس موقع پر جمہوری وطن پارٹی کے دیگر عہدیدار کارکناں بھی موجود تھے۔
انہوں نے اسلام آباد میں بلوچ خواتین پر ہونے والے تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ظلم کے خلاف شہید نواب اکبر خان بگٹی نے آواز بلند کی آج ان کے نقش قدموں پر چلتے ہوئے اسلام آباد واقعے کی ہر فورم پر مذمت کرتا ہوں ایسے واقعات سے بلوچستان کے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا۔
آئی ڈی پی اور لاپتہ افراد کے حوالے سے شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ پانچ سال اقتدار میں رہ کر بگٹی مہاجرین سمیت پشتون پنجابی مہاجرین جو بلوچستان سے نقل مکانی کرکے دیگر علاقوں میں آباد ہیں ان کو اپنے اپنے علاقوں میں آبا کرنے کے لئے آواز بلند کی جبکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے بھی اسمبلیوں میں بھرپور جدوجہد کی ۔
ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے نام پرآج کئی نوجوان اپنے گھروں میں موجود ہیں ۔فرضی افراد کو کسی صورت منظر عام پر نہیں لایا جاسکتاجو پیدا ہی نہیں ہوئے مگر وہ لاپتہ ہوچکے ہیں۔