بھارتی حکومت کی جانب سے پارلیمانی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے پر معطل کیے گئے حزب اختلاف کے درجنوں اراکین پارلیمنٹ نے جمعرات کو سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر ملک میں جمہوریت کا گلا گھونٹنے کا الزام لگایا۔
مودی حکومت نے گزشتہ ہفتے کے دوران پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے حزب اختلاف کے 140 سے زائد قانون سازوں کی رکنیت معطل کی۔
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ان قانون سازوں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ایک بڑے "جمہوریت بچاؤ” بینر کےساتھ ایک مختصر مارچ کیا۔
مظاہرین نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا، جمہوریت خطرے میں ہے‘‘۔ ان اراکین پارلیمنٹ کو ایک ایسے وقت معطل کیا گیا، جب وہ پارلیمان میں ملکی فوجداری قوانین میں اصلاحات سے متعلق ایک متنازعہ بل پر بحث میں حصہ لینے والے تھے۔
گزشتہ ہفتے کے دوان بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے حزب اختلاف کے 140 سے زائد قانون سازوں کو وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفیٰ طلب کرنے کی پاداش میں معطل کر دیا گیا۔
حزب اختلاف 13 دسمبر کو پارلیمنٹ میں پیش آنے والے اس واقعے پر سراپا احتجاج تھی، جب دو دراندازوں نے پارلیمنٹ میں واقع مہمانوں کی گیلری سے ایوان میں چھلانگ لگانے کے بعد زرد رنگ کے دھواں بم پھاڑے۔
اس واقعے سے قانون سازوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا اور پارلیمانی کارروائی میں خلل بھی پڑا تھا۔
حزب اختلاف کا مطالبہ تھا کہ سکیورٹی کی اس ناکامی پر وزیر داخلہ استعفیٰ دیں۔