طالبان نے جنوری کے اواخر میں لاپتا ہونے والے امریکی کنٹریکٹر مارک فریرکس کے تحویل میں ہونے سے متعلق انکار کردیا۔
ڈان اخبار میں شائع امریکی خبررساں ادارے ‘اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ ہمارے پاس لاپتا امریکی شہری سے متعلق کوئی معلومات نہیں۔
امریکا سے ہونے والے مذاکرات سے آگاہ ایک اور سینئر طالبان عہدیدار نے کہا کہ ہم باضابطہ طور پر اور بالواسطہ امریکی حکام کو بتاچکے ہیں کہ مارک فریرکس طالبان کے پاس نہیں۔
انہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ بیان دیا کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے امن عمل زلمے خلیل زاد نے رواں ہفتے قطر میں طالبان سے ملاقاتوں میں امریکی کنٹریکٹر مارک فریرکس کو رہا کرنے کا کہا تھا۔
خیال رہے کہ 9 مئی کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے جاری بیان میں زلمے خلیل زاد نے مارک فریرکس کا پتہ لگانے کے لیے پاکستان سے مدد طلب کی تھی۔
یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان، حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔
معاہدے کے تحت طالبان نے جنگ بندی کے لیے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر اتفاق کیا تھا جبکہ معاہدے کے ذریعے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا راستہ ہموار کرنے کی توقع تھی۔
تاہم گزشتہ چند ہفتوں میں طالبان نے افغان حکومت پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے اور گزشتہ روز بارودی سرنگ کے حملے میں خوست کے پولیس چیف احمد بابازائی ہلاک ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان، حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔
طالبان اور افغان حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات میں اس وقت تعطل آیا تھا جب کابل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ طالبان سرفہرست 15 کمانڈروں کی رہائی چاہتے ہیں۔
بعدازاں 9 اپریل کو طالبان کی جانب سے کابل کے ساتھ مذاکرات سے دستبردار ہونے کے اعلان کے ایک روز بعد ہی افغان حکومت نے کم خطرے والے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کیا تھا اور اب تک افغان جیلوں سے 9 سو 33 طالبان قیدیوں کو رہا کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا تھا کہ بدلے میں کابل انتظامیہ کے ایک سو 32 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔