پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ڈیورنڈخط کے آر پار ایک ہی قبیلے کے خاندان جن کی آدھی زمین اس پار اور آدھی اُس طرف ہے اور مختلف خاندانوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رشتوں میں منسلک ہیں چمن کے لوگوں کا کاروبار اس سے منسلک ہے پشتونوں کے ایک ہی قبائل کے درمیان پاسپورٹ کسی صورت قبول نہیں۔ چمن کے احتجاجی دھرنے میں بیٹھے تمام عوام کے مطالبات مان لئے جائیں۔ پشتونخوا وطن کے عوام کی ہزاروں ایکڑ زمین انگریزی زبان کے ایک لفظ الاٹ Allotted کے ذریعے غیروں کے نام کردی جاتی ہے جسے تسلیم نہیں کرتے کھوسٹ ہرنائی میں عوام کے کوئلوں پر مختلف ناموں سے بھتہ خوری اور غیر قانونی ٹیکسز کسی صورت تسلیم نہیں۔
محمودخان اچکزئی نے کہا کہ ہم ایک ایسے وقت میں عوامی رابطہ مہم کر رہے ہیں کہ افغانستان میں چالیس سالہ جنگ کے نتیجے میں آج پشتون ہر جگہ تکلیف کی زندگی گزار رہے ہیں ہم یہاں ایک مطلب اور غرض لیکر آئے ہیں اور وہ ہم سب کا مشترک ہے پشتون قوم کی عزت اور بے توقیری شریک ہے پشتون قوم جس نے تین سو سال تک ہندوستان سمیت بہت بڑے خطے پر بادشاہتیں قائم کر رکھی تھیں لیکن آج پشتون بحیثیت قوم محکومی کی زندگی گزار رہے ہیں پشتونوں کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے وطن کی ہر وقت دفاع کی ہے دنیا کے زوراوروں نے جب ایجادات کئے اور دوسرے لوگوں کے وسائل لوٹنے نکلے تو پوری دنیا کے ملکوں کو کسی نہ کسی شکل میں لوگوں نے قبضہ کیا سوائے ترکی اور ان پشتونوں کے وطن کے۔محمودخان اچکزئی نے کہا کہ افغانوں کو کوئی بھی اشرار کے نام سے نہ پکارے اور نہ ہی انہیں نکالنے اور جائیدادیں ضبط کرنے کی باتیں کریں کیونکہ جب جنرل ضیاءالحق نے کہا تھا کہ یہ اسلام کے سپاہی ہیں اور ہمارے لئے لڑ رہے ہیں انہیں مجاہدین پکارتے رہے لیکن آج کہہ رہے ہیں کہ انہیں نکالا جائے کسی صورت انہیں غیر قانونی و غیر آئینی طریقے سے نہیں نکالا جاسکتا پوری دنیا میں مہاجرین کیلئے جو قانون ہے اسی قانون کو پاکستان نے بھی ماننا ہے اور یہاں پشتونخوا وطن میں انہیں لوگ مہاجر بھی نہ کہیں بلوچ وطن سندھ یا پنجاب میں مہاجر کہا جاسکتا ہے لیکن پشتونخوا وطن میں وہ مہاجر نہیں۔
انہوں نے کہا غلامی کو اللہ پاک نے بندگی سے تعبیر کیا ہے اور قوم کا وجود مسلمہ ہے کیونکہ اللہ تعالی قران مجید میں موسی علیہ السلام سے مخاطب ہے اور کہہ رہے ہیں کہ اے موسی اپنے قوم کو فرعون کی بندگی سے نجات دلادو۔ پشتون قوم کو اللہ تعالی نے سب سے زیادہ غنی وطن دیا ہے دنیا جہان کی نعمتوں سے مالامال لیکن آج بھی پشتون دنیا بھر میں مسافری اور مزدوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے آج بھی جنت نظیر سوات جیسے وطن کے خوبصورت نوجوان ہزاروں کی تعداد میں یہاں شاہرگ ہرنائی دکی میں کوئلے کے کانوں کے اندر ہوتے ہیں ملک انصاف کے بغیر نہیں چلائے جاسکتے بلکہ گھر میں بھی بھائیوں کے درمیان انصاف نہ ہو تو وہ گھر نہیں چل سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی بھائی چارہ یہ ہے کہ اگر آج دس ہندو دس سکھ اور دوسرے مذاہب کے لوگ کلمہ پڑھ لیں مسلمان ہوجائیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ کھوسٹ شاہرگ اور ہرنائی کے کوئیلوں میں وہ ہمارے شریک ہوئے۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ یہ وطن ہمارا تاریخی وطن ہے جسے نہ کسی نے ہمیں خیرات میں دیا ہے نہ ہی زکوات میں بلکہ ہمارے آباءو اجداد نے اپنے سروں کے نذرانے پیش کرکے اسے ہمارے لئے چھوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی طاقتور قوتوں نے پشتونخوا وطن اور افغانستان کو پوری طرح دیکھ لیا ہے اور وہ ہمارے وسائل لوٹنے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ایسے حالات میں ہمیں سب کو برملا کہنا ہوگا کہ وہ تمام قوتیں ہماری قرض دار ہیں جنہوں نے افغانستان کی بربادی میں حصہ لیا ہے۔
محمودخان اچکزئی نے کہا کہ چمن میں ہزاروں لوگوں کے پرلت کے تمام مطالبات مان کر وہاں پر لوگوں کے آمدورفت کو کھولا جائے اور اشیاءضروریہ سمیت کاروباری اشیاءکے لانے لیجانے پر سے پابندی ہٹائی جائے بیشک اگر یہاں کوئی غیر قانونی اسلحہ یا منشیات کا کاروبار کر رہا ہو انہیں سزا دی جائے لیکن روزمرہ زندگی کے اشیاءپر پابندیاں ہرگز قبول نہیں۔