پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم 11 لاکھ غیرملکیوں کے انخلا کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی نگران وفاقی حکومت نے پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم 11 لاکھ غیرملکیوں کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے جو دہشت گردوں کو فنڈز اور سہولیات سمیت دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

سرکاری خبرایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق نگران حکومت نے دہشت گردوں کو سہولت دینے سمیت دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی شہریوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پہلے مرحلے میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد، دوسرے مرحلے میں افغانستان کی شہریت رکھنے والے اور تیسرے مرحلے میں جن کے پاس رہائشی کارڈ ہیں، انہیں بے دخل کردیا جائے گا۔

اس پیش رفت سے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں نے پاکستان کی سلامتی کے لیے سنجیدہ خطرہ پیدا کردیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں سے ایک بڑی تعداد دہشت گردوں کو فنڈز دینے، سہولت فراہم کرنے اور اسمگلنگ میں ملوث ہے اور 7 لاکھ افغان شہریوں کے پاکستان میں رہائش کے اجازت ناموں کی تجدید نہیں کی گئی ہے۔

اے پی پی نے بتایا کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو ایسے لوگوں کے ساتھ ڈی پورٹ کیا جائے گا جنہوں نے اپنے ویزوں کی توسیع نہیں کرائی، دوسرے مرحلے میں افغانستان کی شہریت رکھنے والے افراد کو ڈی پورٹ کیا جائے گا، تیسرے مرحلے میں رہائشی کارڈ رکھنے والوں کو بے دخل کردیا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزارت داخلہ نے اسٹیک ہولڈرز اور افغان حکومت کے ساتھ مشاورت سے ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ اس حوالے سے وزارت داخلہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ پرمٹ کے بغیر مقیم افغان شہریوں کا ریکارڈ مرتب کریں اور انہیں افغان سرحد تک پہنچانے کے لیے منصوبہ بنائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملک میں مقیم افغان شہریوں کا ریکارڈ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ افغان شہریوں کی رجسٹریشن کے لیے جمع کرائی گئیں درخواست پر کام میں تیزی لائیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں افغانستان کے 13 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین اور 8 لاکھ 80 ہزار سے زائد بدستور غیرقانونی حیثیت میں رہ رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment