امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے حریف اور سابق صدرڈونلد ٹرمپ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت، امریکہ میں کچھ بہت ہی خطرناک ہو رہا ہے۔
جمعرات کے روز ایریزونا میں خطاب کے دوران بائیڈن نے ٹرمپ کے حامیوں پر قانون کی حکمرانی، آزاد صحافت اور جمہوریت پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔
بائیڈن نے کہا، ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے، جمہوریتوں کو آخر میں رائفل سے مرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس وقت مر سکتی ہے، جب لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، جب وہ کھڑے ہونے میں ناکام رہتے ہیں یا جمہوریت کو لاحق خطرات کی مذمت نہیں کرتے، کیونکہ لوگ مایوس، تھکا ہوا اور الگ تھلگ محسوس کرنے کے سبب، جو چیز اپنے لیے سب سے قیمتی ہوتی ہے، اسی کو کھو دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
بائیڈن نے ٹرمپ کے بعض بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ عہدہ صدارت پر رہتے ہوئے اپنے اختیارات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آئین نے انہیں وہ سب کرنے کا حق دیا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا، میں نے تو کبھی کسی صدر کو بطور مذاق بھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔۔۔۔ اس کی رہنمائی آئین کی طرف سے یا پھر ہمارے امریکی ساتھیوں کی مشترکہ خدمت اور شائستگی کے جذبے سے نہیں ہے، بلکہ یہ انتقام اور بدلے کے جذبے کے ذریعے ہے۔
واضع رہے کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے ٹرمپ ریپبلکن کے امیدواروں میں سر فہرست ہیں۔اور سن 2024 میں ریپبلکن پارٹی میں صدارتی امیدوار نامزد ہونے کی دوڑ میں اپنے دیگر حریفوں کے مقابلے میں سب سے آگے ہیں۔