الیکشن کی آمد آمد کے ساتھ ہی بلوچستان کے فوجی آپریشن سے متاثرہ ضلع آواران میں الیکشن کیلئے سازگار ماحول بنانے کے لئے عوام میں راشن تقسیم کا آغاز کردیا گیا ہے ۔
سنگر نیوزڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جھائو کورک میں پاکستانی فوج کی جانب سے راشن تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لوگ راشن لینے سے انکاری ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز اور سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کے لوگ گزشتہ روز سے الیکشن کیلئے ماحول بنانے کیلئے راشن کی تقسیم میں مصروف ہیںلیکن دوسری جانب علاقے کے لوگ فورسز سے راشن لینے سے انکاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز گھرگھر جاکرلوگوں کوجبراً راشن پہنچا رہے ہیں۔ جس سے علاقے میں اس خدشے نے جنم لیا ہے کہ فورسز مبادہ ایک نئے فوجی آپریشن کی راہ ہموار کررہی ہے تاکہ لوگوں کی قربت و سمپتی حاصل کرکے بلوچ مسلح تنظیموں سے منسلک افراد کوان کی فیملی کے ذریعے سرنڈر کرواکر الیکشن کیلئے ایک پُر امن ماحول بنایا جاسکے۔
با خبر زرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز بڑی تعداد کے ساتھ علاقے میں موجود ہےاور ایک نئے زمینی سروے کی تیاری کے ساتھ علاقائی ڈیتھ اسکواڈ کو منظم کرنے کے لئے لوگوں سے قربت بڑھایا جارہا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسری جانب اس عمل میں بلوچستان کا سابق کٹھ پتلی وزیراعلی قدوس بزنجو اور نیشنل پارٹی کے سابق ضلعی ناظم خیرجان بزنجو الیکشن کمپین چلانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے فوج کا سہارا لے رہے ہیںاور اب فورسز کورک کے ہائی اسکول میں راشن کی تقسیم میں مصروف ہے۔