اقتدار کے ایوانوں میں | ظہیر بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
11 Min Read

(کتاب تجزیہ)

یہ کتاب پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار کی کہانی ہے جو اس کے سیاسی مرید بلوچ نیشنلزم کی بنیاد پر وجود میں آنے والے بی ایس او کے عہدیدار اور اینٹی بی ایس او تشکیل دینے والے گروہ کے ایک ذمہ دار عبدالرحیم ظفر کی تحریر کردہ ہے۔

اس کتاب کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کی روداد بیان کرتی ہے بلکہ یہ کتاب پاکستانی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں اور طاقت کے اہم مراکز فوج کے کردار کو بھی بیان کرتا ہے۔

اقتدار کے ایوان ایک کمزور انسان کو طاقتور بنادیتے ہیں اور اسی طاقت کے بل بوتے پر وہ کچھ حاصل ہوتا ہے جو آپ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ بلوچستان جو ایک پسماندہ و مقبوضہ علاقہ ہے وہاں کسی کو سرکاری عہدے و مراعات کجا ایک جگہ سے دوسری جگہ کی مسافت طے کرنے کے لئے آرمی کی اجازت لازمی ہے وہاں سے ایک انقلابی ترقی پسند سوچ رکھنے والے اور اینٹی سردار بی ایس او کے عہدیدار کو عہدے تقویض کئے جائے مراعات سے نوازا جائے جس سے یہ بات عیاں ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں بلوچستان کا مسلہ احساس محرومی کا مسلہ ہے لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتا کہ احساس محرومی کے اصل اسباب کیا ہے اگر پاکستان بلوچستان پر قبضہ نہ کرتا تو آج بلوچستان احساس محرومی کا شکار ہوتا۔

عبدالرحیم ظفر صاحب اس کتاب میں اس دور کی سیاسی تاریخ کو بیان کررہے ہیں جب بلوچستان بھٹو کے ظلم و جبر کا شکار ہے لیکن موصوف متعدد بار یہ بات دہرارہے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ احساس محرومی کا ہے اور یہ احساس محرومی چند نوکریوں اور مراعات کے عوض ختم ہوگی لیکن پتہ نہیں کیوں وہ بلوچستان کے اصل مسائل سے روگردانی کررہے ہیں جو نوآبادیاتی و بقاء کا مسئلہ ہے۔ رحیم ظفر صاحب اچھی طرح واقف ہے کہ بلوچستان ایک مقبوضہ علاقہ ہے اور اس مقبوضہ علاقے پر پاکستان کا قبضہ ہے اور اس قبضے کے خلاف مزاحمت جاری ہے اور اس وقت بھی جاری تھی جب بھٹو اقتدار میں تھے اور مصنف اسی بھٹو کے دور میں او ایس ڈی کے عہدے پر فائز تھے لیکن پتہ نہیں موصوف کیوں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔

موصوف کتاب میں ایک جگہ کہتے ہیں جب انہوں نے بلوچستان میں گندم کی قلت کا مسلہ اٹھایا تو انہوں نے میری شکایت پر غور کرکے بلوچستان کے ساحلی علاقے میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گندم کی بوریاں پھینکی جو پاکستان اور بلوچ کے رشتے کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ نوآبادیات میں ہمیشہ آقا اپنے غلاموں کو آپس میں دست و گریباں کرنے کے لئے ایسے عمل کا مرتکب ہوتا ہے لیکن ترقی پسند ذہنیت رکھنے والا ایک سیاسی کارکن اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ ہمارے مسائل کو بھٹو صاحب نے حل کیا۔

قادیانی جن کی پوری دنیا میں آبادی کا بیشتر حصہ پاکستان میں رہائش پذیر ہے انہیں سوشلزم کے دعویدار بھٹو نے کافر قرار دیا اور پیپلز پارٹی آج بھی اس بات کا کریڈٹ لیتی ہے لیکن موصوف کہتےہیں کہ بھٹو پر آرمی اور مذہبی جماعتوں کا دباؤ تھا اور پورا الزام بھٹو پر لگا لیکن ہم آج یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر آرمی کا دباؤ تھا تو پیپلز پارٹی اس بات کا کریڈٹ کیوں لیتی ہے۔کیونکہ قادیانیوں کو کافر قرار دیکر امریکہ جنرل ضیاء کے ذریعے ایٹمی میزائل بنانے کی سزا دینا چاہتی ہے حالانکہ پاکستان کا میزائل پروگرام امریکی حمایت کے بغیر ناممکن ہے۔

پاکستان کے تمام مقتدر ادارے اور محکمے بشمول پیپلز پارٹی ہمیشہ بلوچستان کی پسماندگی کو سرداروں سے نتھی کرتے ہیں لیکن بقول مصنف بلوچستان میں نیپ کی حکومت کے خاتمے کے باوجود بھی پیپلز پارٹی قدم جمانے میں ناکام ہوئی کیونکہ پیپلزپارٹی نے بھی وہاں عہدے اور اختیارات سرداروں اور نوابوں کے حوالے کردئیے ہیں جس سے یہ عیاں ہوتاہے کہ بلوچستان کے سردار ریاستی آلہ کارہے جبکہ بلوچستان کے عوام ریاستی آلہ کاروں کے بجائے اپنی زمین اور اپنی ثقافت سے محبت کرتے ہیں اور انہی سیاست دانوں کو اپنا رہنما ء تصور کرتے ہیں جو بلوچستان میں ریاستی پالیسیوں کو رد کرتے ہوئے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

مصنف صفحہ نمبر 99 پر پاکستانی عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایک بزرگ سے پوچھا تم عدالت کیوں جاتے ہو تم لوگوں کا فیصلہ، سردار یا نواب کرتا ہے ۔اس پر وہ بولے دوسرا فریق بد بخت عدالت گیا ہے اور مجھے بھی خوار کیا ہے۔ایک سال سے پیشیاں بھگت رہاہوں، عدالت والے تاریخ پر تاریخ دے رہے ہیں لیکن فیصلہ نہیں کرتے۔ مذید اس بزرگ نے کہا کہ تم پڑھے لکھے لوگ کہتے ہو سردار یا نواب خراب ہیں ظلم کرتے ہیں لوگوں کو دبا کر رکھتے ہیں انصاف نہیں کرتے تو دوسری طرف کونسی شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔

مصنف اپنے کتاب میں اس سچائی سے بھی پردہ اٹھاتے ہیں کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے رہائشی اور کمرشل اسکیموں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔کوسٹ گارڈ ، نیوی، فضائیہ سب مختلف تجارتی منصوبوں کی آڑ میں زمینوں پر قبضہ کررہے ہیں اور اپنی جیب گرم کرنے کے لئے ڈیزل اور دیگر اسمگلنگ کرنے والے لوگوں کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔بزی واقعہ ہو یا گوادر پی سی ہوٹل فدائی سب کے تانے بانے پاکستانی مقتدرہ ایران سے جوڑ کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس کتاب کا مطالعہ ان باتوں سے بھی پردہ اٹھاتا ہے کہ سیاست اور سیاسی حکمران کبھی سچ کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ عبدالمالک ابڑو جنہیں بھٹو کے جلسے میں سچ بولنے کی پاداش میں گرفتار اور پھر قتل کیا گیا جبکہ یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ پاکستانی سیاست میں مذہب کا استعمال متواتر ہوتا ہے کہ 1977 کے انتخابات میں بھٹو پر دھاندلی کا الزام کو ایک نیا رنگ دینے کے لئے یہ تاثر ابھارا گیا کہ انتخابات کا بائیکاٹ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے کیا گیا ہے جبکہ نظام مصطفے کے نام پر مذہب کو ایک ڈھال کے طور پر سیاسی اعمال کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اس کتاب میں مصنف صفحہ 196 میں رقمطراز ہے کہ بھٹو کہتا ہے میرے فیصلے کے سامنے اگر کوئی رکاوٹ بنتا ہے تو پھر اپنی تباہی کا ذمہ دار خود ہوگا اور عملا ًبھی بھٹو ایک ظالم سیاست دان تھا جس نے نہ صرف سندھ و بلوچستان و پختونستان کے قوم پرستوں کو دبایا بلکہ بلوچستان بھر میں فوجی بربریت سے خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ بھٹو خاندان انگریزوں کے غلام تھے ان کے خاندان کے بزرگوں کو انگریز سرکار کی جانب سے سر کا خطاب عطا کیا گیا کیونکہ انگریز انہیں سر کا خطاب نوازتی ہے جو ان کے حکم کی تحمیل کے لئے اپنے قوم سے ہی غداری کرتے ہیں اس بات کا اندازہ مصنف کے کتاب کے صفحہ نمبر 163 سے عیاں ہوتاہے کہ بھٹو غلامانہ ذہنیت کے انسان تھے اور اس واقعے سے ثابت ہوتاہے کہ بھٹو انگریزوں کا ایک آلہ کار تھا۔

مصنف کہتے ہیں کہ میر عبدالنبی جمالی نے بھٹو سے گزارش کی جیکب آباد کا نام قدیمی نام پر رکھیں جو خان گڑھ ہے تو بھٹو نے کہا کہ جیکب سرد علاقے کا آدمی تھا اس دوزخی گرمی میں بیٹھ کر اس شہر کو آباد کیا ،ریلوئے لائن بنوایا اور اسکی قبر بھی یہیں ہے۔اس شہر کا نام ہم کیسے تبدیل کرسکتے ہیں۔ہم لوگ کون ہوتے ہیں تاریخ کو بدلنے والے۔

حرفِ آخر

عبدالرحیم ظفر ایک زیرک سیاستدان اور بی ایس او کے بنیادی رکن تھے جو بعد میں قومی پرستی کی سیاست کو خیر باد کہہ کر بھٹو کی پیپلز پارٹی میں سوشلزم اور بھٹو کی چمک دیکھ کر شامل ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی مقتدرہ کسی بھی شکل میں ہو وہ بلوچ کا دشمن ہے کیونکہ پاکستانی فوج سے لیکر بھٹو تک اور بھٹو سے لیکر موجودہ دور تک بلوچستان ایک اندوہناک وقت سے گزر رہا ہے۔جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشیں پاکستانی ریاست کے ماتھے پر ایک کلنک کا دھبہ ہے جو کبھی نہیں دھل سکتی۔

مصنف نے لیاری میں بھٹو کے مثبت کردار کو تو اجاگر کیا ہے لیکن بھٹو اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں منشیات سے لیکر بلوچ نسل کشی، گینگ وار کی تشکیل یہ سب پی پی پی کے سیاہ کارنامے ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

٭٭٭
یہ عبدالرحیم ظفر کی کتاب ” اقتدار کے ایوانوں میں پر” ایک ریو یوہے ۔اس میں پیش کردہ خیالات وتجزیہ مصنف کے ذاتی ہیں ،ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ

Share This Article
Leave a Comment