روس: نوبیل انعام یافتہ صحافی کا غیر ملکی ایجنٹ قرار دیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنیکا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

نوبیل انعام یافتہ روسی صحافی دمیتری موراتوف حکومت کی جانب سے "غیر ملکی ایجنٹ” قرار دیے جانے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

روس کی وزارتِ انصاف نے یکم ستمبر کو موراتوف کانام اُس فہرست میں شامل کیا تھا جس میں مبینہ طور پر روسی مفادات کے خلاف کام کرنے والے لوگوں پر باضابطہ طور پر "غیر ملکی ایجنٹوں” کا لیبل لگایا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ روس میں اس طرح کا لیبل لگا کر لوگوں کوزندگیوں کو داغدار اور پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے۔

دمیتری موراتوف اخبار نووایا گازیٹا کے مدیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

پیر کو اخبار نے کہا کہ موراتوف عارضی طور پر ایڈیٹر انچیف کے طور پر اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے تاکہ وہ خود پر لگنے والےغیرملکی ایجنٹ کے لیبل کو عدالت میں چیلنج کر سکیں۔

فروری دو ہزار سترہ کی اس فائل فوٹو میں لوگ روس کے اپوزیشن کے رہنما بورس نیمتسووکی تصویر اٹھائے ہوئے ہیں۔

حکام نےموراتوف پر غیر ملکی ایجنٹ کا لیبل لگاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے یوکرین کے بچوں کے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے اپنا نوبیل تمغہ نیلامی میں بیچا اور "غیر ملکی ایجنٹوں کے ذریعے مواد بنایا، پھیلایا اور اسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر روس کی خارجہ اور ملکی پالیسیوں کے بارے میں منفی رائے پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔”

موراتوف کا اخبار تحقیقاتی کام کے لیے مشہور ہے جن میں کبھی کبھی کریملن، حکومتی پالیسی اور اعلیٰ حکام کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔موراتوف کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 2021 میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

روس کی وزارتِ انصاف نے یوکرین کے خلاف خصوصی فوجی کارروائی کے نام سے کی جانے والی جنگ کے بعد سے غیر ملکی ایجنٹس کی فہرست میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ وزارت اس لیبل کو جنگ کے نقاد اور مخالف لوگوں اور تنظیموں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment