دیارِ نورا -لیاقت بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

اگر داستان بیاں کریں توقہر کے قصے بہت ہیں جو دشمن کے قہر سہتے ہوئے اپنی نام تاریخ میں زندہ کی ہے مگربلوچستان کی سر زمین زرخیر ہیں جہاں سربازوں اور جانبازوں کی کمی نہیں ہے اس لئے ہمیں فخر سے کہنا چاہئے دشمن کےسامنے جوانمر دی سے بلوچ فرزندوں نے لڑ کر عظیم رتبے حاصل کی ہے یہ داستاناں آج کا نہیں ہے بلکہ ۱۸۳۹سے شروع ہو تا آرہا ہے سب سے پہلے شہید اول خان مہرا ب خان ہے جو انگر یزکے خلاف اس لئے لڑتے ہیں کہ اپنے فرزندوں کو اپنے قوم کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں اپنے وطن کی خاطر مرنے زندگی میں بہت بڑی سودا نہیں ہے یہی روایات بڑی فخر باعث ہے بلوچوں کےلئے مگر اس فلسفے پر آج بلوچ سرمچار پوری اتر ر ہے ہیں

انکی فہر ست لمبی ہے مگر چند ایک کا ذکر کرتاہوں جس کسی کے نام لکھیں وہ پوری اترتی فلسفے پروطن کے لئے مر مٹنے آسان سواد ہے
بلوچستان طول و عرض میں روز کہیں سے خبر ایک ملتی ہے قابض پاکستانی فوج نے ظلم کے انتہا کردیا ہے اتنے لوگوں کو بھوند ڈالا ہے مگر کہیں ایسے لمحے ملتے ہیں جہاں بلوچ سر زمین کی تقدس کو محفوظ رکھنے والے سرباز بھی ان خونی لشکر کا مقابلے کےلئے تیار رہتے ہیں


بلوچستان کی پُرآشوب مردم خیز علاقوں پروم وہ جگہ ہے جہاں بلوچ سرزمین کی خاطر قربان ہو نے والے فرزندوں کی ایک لمبی فہرست مو جود ہے گذشتے مہینے ۲۵اور ۲۶مارچ کو یہ خبر سوشل میڈیا میں آگ کی طرح پھیل رہی تھی کہ پر وم میں رات گئے پاکستانی فوج اور ریا ستی ڈایتھ اسکو ڑ کی بلوچ سرمچاروں کے درمیان جنگ جاری ہے پر وم کی زمین بلوچستان دیگر علا قوں کی طرح قابض فوج کی خونی پنجوں کی ہر وقت لپیٹ میں ہے اور ابھی تک بھی وہاں ظُلم اور بربریت کے نئے وحشتناک عمل فوج عوام پر برسا رہی ہے یہ سرزمین کے محبت ہے باشعور لوگ موت کوگلے لگاتے ہیں وطن کی حفاظت اور قومی شناخت کو زندہ رکھنے کیلئے خود سے بڑی دشمن سےانتہائی بہادری کے ساتھ لڑتے ہیں اور اپنی عزیز وطن کی محبت کے لئے طاقتوار دشمن خلاف محاذ پر اتر کر لڑنےکو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں مرد مجاہد نورا اور سرمچار ساتھی دشمن کے انتظار میں بیٹھے تھے سورج طلوع ہونے سے پہلے لڑائی شروع کرتے ہیں لڑائی سے دشمن کو کافی نقصان دیتے ہیں تو خوفزدہ دشمن مزید نفری آتی ہے مگر انکو کے حوصلوں کے سامنے لڑ نہیں سکھتے ہیں تو جنگی جہاز ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کرکے بلوچ سرمچاروں کو شہید کرتے ہیں ان سر مچاروں کی بہادری نے تاریخ نئی باب رقم کرنے والے انمول درخشان نام ایک نورا تھا جنہوں نے اپنے ساتھوں کے ساتھ نئی تاریخ بنانے میں کامیاب ہوئےتاریخ نورا عرف پیرک اور انکی ساتھوں کو عظیم رتبے دیتی ہے جس کی بہادری قصے ہر گھر میں ہوتی ہے ،اب یہ عیان ہے بلوچ گھروں میں جب بہادری کے داستان سنایا جاتاتھا تو حمل جیند ،نورا مینگل،کمبر،دادشاہ مہراب خان نوری نصیر خان ،عبداللہ قہار اب اس نئی دور میں انکی اور نام آئیں ہیں سلمان عرف شہیک ،ریحان اور ماس یاسمہ انمیں ایک اور بھی شامل ہو ا جسے نورا عرف پیر ک کے نام جانتے ہیں
جب بلوچستان میں آزادی کی سورج طلوع ہو تا ہے یقین کے ساتھ کہتا ہوں انہی شہدوں کی بدولت ہماری وطن میں ہر بلوچ ایک خوشحال زندگی بسر کرتی ہے


انکی بہادری وطن کی دفاع کے لئے بلوچ ابھر کر سامنے آتے ہیں یہی امید کیلئے بلوچ سرباز اپنی آج کو قربان کررہے ہیں امید یہی ہے نئی نسل شہید نورا سمیت بلوچ سرمچاروں کی جنگی داستاں کو پڑھ کر تاریخ میں فخر کے ساتھ جیتے ہیں پھر فخر سے یہی کہتا ہوگا دشمن سے لڑ کر اس وطن آزادکرنے والے سپاہی انمول ہیں جہنوں اپنی شاخت کےلئے امر ہو ئے ہیں کل انکی قربانی وطن دفاع آج ہماری خوشحالی کا ضامن ہے وطن کی حفاظت اُس کی تقدس برقرار رکھنے والے شہید زندہ ہیں وہ صدیوں بعد بھی زندہ رہتے ہیں
نورا اور انکی ساتھی سرمچاروں نے زندگی اصل مقصد کو اپنی قربانی کی بدولت عیاں کی ہےآئیں انکی طرح جینے کی کوشش کرتے اسی میں زندگی اصل راز چھپی ہے وطن کے لئے امرہو ناکامیابی کا ضامن ہے

Share This Article
Leave a Comment