پریگوزن طیارہ حادثے میں روس ملوث نہیں،،حکومتی ترجمان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
فوٹو : روئٹرز

روس نے جمعے کے روز ان الزامات کی تردید کی ہے کہ طیارے کے اس حادثے میں اس کا کوئی عمل دخل ہے جس میں کرائے کے فوجیوں کے گروپ واگنر کے لیڈر ییوگنی پریگوزن مبینہ طور پر ہلاک ہوئے۔

پریگوزن جن کے جنگجوؤں نے یو کرین، افریقہ اور شام میں خوف و ہراس پھیلایا، ان کے لیے جمعرات کو روسی صدر ولادی میر پوٹن نے تعزیت کی ,جبکہ ان شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا رہا کہ طیارے کے اس حادثے کے پیچھے جسے بہت سوں نے قتل گردانا، روسی صدر کا ہاتھ تھا۔

امریکی انٹیلی جنس کا بھی ابتدائی اندازہ یہی تھا کہ طیارہ قصداً دھماکے سےگرایا گیا اور نشانہ پریگوزن تھے۔

لیکن کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوو نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔

پیسکوو نے ایک کانفرنس کال میں نامہ نگاروں کو بتایا،” فی الوقت طیارے کے حادثے اور ییو گنی پریگوزن سمیت تمام مسافروں کی المناک موت پر بہت قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ۔ بلا شبہ مغرب میں یہ قیاس آرائیاں ایک خاص زاویے سے کی جارہی ہیں اوریہ تمام مکمل جھوٹ ہے۔”

اس سوال کے جواب میں کہ آیا کریملن کو پریگوزن کی موت کی باضابطہ تصدیق موصول ہو گئی ہے، پیسکوو نے ایک روز پہلے کے صدر پوٹن کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا،” اب جینیاتی ٹیسٹنگ سمیت ہر ضروری فورینزک تجزیہ کیا جائے گا اور جب کسی طرح کے باضابطہ نتائج سامنے آتے ہیں تو انہیں جاری کر دیا جائے گا۔”

پریگوزن نے دو ماہ پہلے جون کی 23 تاریخ کو روسی افواج کے خلاف ایک مختصر مگر چونکا دینے والی بغاوت کی تھی۔ بغاوت کے خاتمے اور پریگوزن کو روسی صدر کی جانب سے کسی کارروائی سے محفوظ رکھنے میں بیلا روس کے صدر لوکا شینکو نے بڑا کردار ادا کیا اور ایک معاہدہ طے ہوا جس کے تحت پوٹن نے پریگوزن اور ان کی فورسز کو آزاد چھوڑ دیا۔

بدھ کے روز صدر الیگزینڈر لوکا شنکو نے سرکاری نیوز ایجنسی بیلٹا کو بتایا کہ انہوں نے اس سے پہلے پوٹن کو، پریگوزن کو ہلاک کرنے کی انتہائی ممکنہ کوشش کے بارے میں خبر دار کیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment