بلوچستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن کامریڈ ہانی گل بلوچ اور ان کے شوہر سمیر بلوچ کو مغربی بلوچستان (ایرانی بلوچستان) میں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ 9 اگست 2023 کو دونوں میاں بیوی کو مغربی بلوچستان کے علاقے پہرہ محمد آباد سے مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ کامریڈ ہانی گل کے دیور عبدالرؤف بلوچ کو 5 اگست کو تربت میں مبینہ طور پر توہین رسالتؐ کے الزام میں قتل کردیا گیا تھا۔
عبدالرؤف بلوچ کامریڈ ہانی گل کے شوہر سمیر بلوچ کے چھوٹے بھائی اور تربت کے ایک نجی اسکول میں استاد تھے۔ مقتول کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے جت بلنگور سے تھا، وہ ایل ایل بی کے داخلے کا بھی خواہشمند تھا۔
عبدالرؤف بلوچ کو اس وقت موت کے گھاٹ اتارا گیا جب انہیں اس مخصوص گروہ (ڈیتھ اسکواڈ) نے اپنے ایک پرائیوٹ جرگے میں طلب کیا تھا۔ ان پر مبینہ طور پر توہین رسالتؐ کا الزام تھا جبکہ مقتول کی جانب سے اس الزام کو رد کیا جا چکا تھا۔
کامریڈ ہانی گل بلوچ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی خلاف توانا آواز تھیں۔ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے سرگرم اور اپنے سابقہ منگیتر نسیم بلوچ کی بازیابی کے لئے کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں احتجاج کرتی رہیں۔ 14 مئی 2019 کو رمضان المبارک کے مہینے میں نسیم بلوچ سمیت کامریڈ ہانی گل کو بھی کراچی سے لاپتہ کیا گیا۔ تاہم انہیں چھ ماہ قید میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ نسیم بلوچ تاحال لاپتہ ہیں۔
نسیم بلوچ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (زیبسٹ) کراچی میں شعبۂ قانون کے آخری سیمسٹر کے طالب علم تھے۔
کامریڈ ہانی گل نے اپنی بازیابی کے بعد نسیم بلوچ کی بازیابی کے لئے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جس پر سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیے تاہم اغوا کار اتنے طاقتور تھے کہ وہ خود کو عدالت کے سامنے بھی بھی جوابدہ نہیں سمجھتے تھے۔ جس کے باعث عدالت نے بھی بے بسی کا اظہار کیا۔
کامریڈ ہانی گل نے ہمت نہ ہاری۔ انہوں نے نسیم بلوچ کی بازیابی کے لئے ہر جمہوری جدوجہد کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کراچی اور کوئٹہ پریس کلبز کے باہر احتجاج، یہاں تک کہ اسلام آباد کے ایوانوں کے سامنے بھی فریاد کرتی رہی۔
کامریڈ ہانی گل سے میری دو درجن سے بھی زائد ملاقاتیں رہیں۔ وہ اکثر کراچی پریس کلب آتی تھی جہاں ان سے میری ملاقات ہوتی تھی۔ وہ ایک باہمت اور باصلاحیت لڑکی تھی۔ دوران احتجاج وہ تنگ دستی کا شکار رہی۔ مالی مشکلات کی وجہ سے اسے اپنی جاری تعلیم کو بھی خیرباد کہنا پڑا۔
کامریڈ ہانی بلوچ نے 10 نومبر 2020 کو صوبہ سندھ سے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ مل کر کراچی سے راولپنڈی تک پیدل مارچ کا آغاز کیا۔ یہ پیدل مارچ سندھ سبھا نامی تنظیم کے زیر اہتمام کیا گیا۔ جس میں سندھ سے لاپتہ افراد کے لواحقین شامل تھے۔ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین میں صرف کامریڈ ہانی بلوچ تھیں۔
یہ مارچ کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا ضلع گھوٹکی پہنچا جہاں سے اسے پنجاب کی حدود میں داخل ہونا تھا۔ صوبہ سندھ کے لاپتہ افراد کے لواحقین کے پیدل مارچ کو پنجاب میں داخلے سے روک کر خواتین سمیت دو درجن افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس دوران پولیس نے تشدد کا راستہ اپنایا جس کے باعث دیگر خواتین کے ساتھ ساتھ ہانی گل بھی شدید زخمی ہوئی۔ جب یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سندھی قوم پرست جماعتوں نے سخت احتجاج کیا اور تمام خواتین اور بچوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ سندھی میڈیا نے شہ سرخیوں میں اس بہیمانہ تشدد کے خلاف خبریں چلائیں۔ سب سے زیادہ اچھی کوریج بی بی سی کے ریاض سہیل کی تھی جس نے کھل کر رپورٹنگ کی۔ ریاض سہیل کا تعلق بنیادی طورپر ایک سندھی سیاسی گھرانے سے ہے۔ انکے والد صاحب سہیل سانگی ایک سینیئر صحافی اور مصنف ہیں۔ سانگی صاحب طالب علمی کے زمانے میں انڈر گراؤنڈ رہے۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتوں کا بھی سامنا کیا۔ وہ کمیونسٹ رہنما جام ساقی کے کزن بھی ہیں۔
کامریڈ ہانی نے بلوچ لاپتہ افراد کے کیس کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہانی گل کو فرانسیسی نیوز ایجنسی (اے ایف پی) نے لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنی ایک فیچر اسٹوری میں کریکٹر کے طور پر بھی چنا۔ یہ اسٹوری اے ایف پی کراچی کے بیورو ہیڈ اشرف خان اور ایک غیر ملکی صحافی نے کی تھی۔ یہ اسٹوری عالمی میڈیا کی زینت بن گئی۔
کامریڈ ہانی گل ایک سال انڈر گراؤنڈ رہنے کے بعد 5 اگست 2023 کو اپنے دیور عبدالرؤف بلوچ کے قتل کے بعد دوبارہ منظر عام پر آئی ۔ ہانی گل نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں عبدالرؤف کے قتل کی نہ صرف مذمت کی بلکہ بلوچ قوم سے اپیل کی کہ وہ عبدالرؤف کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے کردار ادا کریں۔ ہانی گل نے انڈرگراؤنڈ رہنے کے دوران سمیر بلوچ نامی بلوچ لڑکے سے شادی کی اور مشرقی بلوچستان (پاکستانی بلوچستان) سے مغربی بلوچستان (ایرانی بلوچستان) منتقل ہوگئی۔ کامریڈ ہانی کا تعلق ضلع کیچ کے مرکز تربت شہر سے تھا جبکہ انکے شوہر کا تعلق ضلع کیچ کے جت بلنگور سے تھا۔
اس ویڈیو کےبعد دونوں میاں بیوی کو 9 اگست2023 کو مغربی بلوچستان سے اغوا کیا گیا۔ اغوا کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں ملیں۔ ظاہر سی بات ہے اس قتل میں کرائے کے قاتل استعمال کئے گئے۔ ان اموات نے بلوچستان بالخصوص ضلع کیچ کو ایک بار پھر غمزدہ کردیا۔ کینیڈا میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی سابقہ چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ کی موت کے بعد یہ دوسری بڑی موت تھی۔ بانک کریمہ کا تعلق بھی ضلع کیچ سے تھا۔ ضلع کیچ بلوچ لڑکیوں اور عورتوں کی سیاسی سرگرمیوں میں اہم مقام رکھتا ہے۔ فدائی بانک شاری بلوچ کا تعلق بھی اسی ضلع سے تھا۔ کیچ کی ماؤں کو سلام جنہوں نے ایسی بہادر بیٹیاں پیدا کیں جو حق و سچ کے سامنے ہار نہیں مانتی ہیں۔
بلوچی روایت اور کلچر میں جنگ کے دوران خواتین اور بچیوں کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ دشمن کی خواتین پر بھی ہاتھ اٹھانا بلوچ معاشرے میں عیب سمجھا جاتا ہے۔ بلوچی روایت کے مطابق جنگ کے دوران بلوچ دشمن کی خواتین پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ہے۔ کامریڈ ہانی کی موت بلوچی روایت کے منافی ہے۔ قاتلوں نے جنگی روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔ قاتلوں کی پشت پناہی کرنےوالوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
٭٭٭