روس کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ ایک نجی طیارے کے حادثے میں اس پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور روس کے مسلح گروہ ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوژن کا نام بھی اس طیارے کے مسافروں میں شامل تھا۔
ویگنر وہی گروپ ہے جس نے دو ماہ قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف ناکام مسلح بغاوت کی تھی اور اس آپریشن کی قیادت پریگوژن ہی کر رہے تھے۔
ویگنر سے منسلک ٹیلی گرام چینل گرے زون پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ایمبریئر طیارے کو ماسکو کے شمال میں ٹیور کے علاقے میں روس کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا ہے۔
ماسکو سے سینٹ پیٹرزبرگ جانے والے اس نجی طیارے میں سات مسافر اور عملے کے تین افراد سوار تھے۔
گرے زون نے کہا کہ مقامی باشندوں نے حادثے سے پہلے دو دھماکوں کی آوازیں سنی اور فضا میں دھویں کی دو لکیریں دیکھی تھیں۔
طاس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ طیارے کے زمین سے ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی، اس کا مزید کہنا ہے کہ جہاز سے چار لاشیں مل چکی ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ طیارہ آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت تک ہوا میں تھا۔
62 سالہ پریگوژن نے 23 اور 24 جون کو روسی صدر کے خلاف مسلح بغاوت کی سربراہی کی تھی اور یوکرین سے اپنے جنگجوؤں کو منتقل کیا اور روسی شہر روستو آن ڈون پر قبضہ کیا اور ماسکو کی طرف پیش قدمی کرنے کی دھمکی دی تھی۔
ان کا یہ اقدام یوکرین کے تنازعے پر روسی فوجی کمانڈروں کے ساتھ مہینوں کی کشیدگی کے بعد سامنے آیا تھا۔
اس تنازعے کو ایک معاہدے کے ذریعے حل کیا گیا جس نے ویگنر کے جنگجوؤں کو بیلاروس جانے یا روسی فوج میں شامل ہونے کی اجازت دی۔
پریگوژن نے خود بیلاروس منتقل ہونے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن وہ بظاہر آزادانہ طور پر نقل و حرکت کرنے میں کامیاب رہے ۔ وہ اس کے بعد روس میں دیکھے گئے اور مبینہ طور پر انھوں نے افریقہ کا دورہ بھی کیا۔
یوگینی پریگوزن کا تعلق ولادیمیر پوتن کے آبائی شہر سینٹ پیٹرزبرگ سے ہے۔ سنہ 1979 میں انھیں پہلی بار کسی جرم کے لیے سزا سنائی گئی۔ اس وقت ان کی عمر صرف 18 سال تھی اور انھیں چوری کے الزام میں ڈھائی سال کی سزا سنائی گئی۔
دو سال بعد ڈکیتی اور چوری کے الزام میں انھیں تیرہ سال قید کی سزا سنائی گئی، جن میں سے نو سال یوگینی پریگوزِن نے سلاخوں کے پیچھے گزارے۔
جیل سے رہائی کے بعد پریگوزِن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں ہاٹ ڈاگ فروخت کرنے والے سٹالوں کا ایک کاروبار شروع کیا۔ کاروبار اچھا چلا اور چند سال کے اندر 1990 کی دہائی میں، پریگوزِن شہر میں مہنگے ریستوران کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔