عاطف سے جوانسال کمانڈر شہید مہراب تک کا سفر – تحریر:۔محمد یوسف بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
11 Min Read

اکثر و بیشتر اس استحصالی قوتوں کی جابرانہ ادوارکی توسیع پسند عزاہموں کی محکوم و مظلوم اقوام اور کمزور ریاستوں پر ہونے والی قبضہ گیریت اور استحصالی روجحاں پالیسیوں کی بد نما داستانیں ہم تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے آرہے ہیں۔ تو ایسی کئی محکوم و کمزور اقوام اور ریاستوں کو قبضہ گیروں نے آپنے ہواس کو پائے تکمل تک پہنچا کر آپنے فوجی و جدید جنگی سازو سامانوں کی گھمنڈی بوٹوں تلے روند کرصفحہ ہستی سے مٹا ڈالا یاان ریاستوں کو آپنا کالونی کا روف دیکربسنے والے اقوام کی آزاد حثیت کو غلامی کی زنجیریں پہناتے گئے۔مگر انسانی تاریخ میں ایسی اقوام کے کئی شہسوار فرزدوں نے آپنے سرخ لہو سے تاریخی منصفیں حضرات کو یہ لکھنے پر مجبورکر دیا۔کہ زندہ قوموں کی شیر دل ماوں نے ایسے شیردل اور بھادر فرزنداں وطن جنم دے چکے ہیں۔ جو آپنا قومی بقاء ننگ ناموس کی دفاع آپنے کمزور قوت سے استحصالی قوتوں کے حلاف علم بغاوت بلندکرکے تلوار و پرانی بندوقوں سے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کیلئے آپنے ذاتی وگروہی مفادات اور خواہشات اور عمر کی ہسار کو توڑ کر اجتحماعی اور قومی مفادات کیلئے سروں کا نذرانہ دیکر امرہوٗے ہیں۔ جن کا تسلسل ہنوز چلتا آرہاہے۔

جب ہم تاریخی دریچوں میں جھانک کر دیکھتے ہیں تو کسی کونے میں ہمیں خون آلودہ مقبو ضہ بلوچستان کا نقشہ نظروں کی زینت بن کے نمودار ہوتا ہے جو ہر ادوار کی جابرانہ استعماری توسیعانہ پسند قوتوں نے ہواس کی عینکوں سے آپنا ناپاک پنچھا گھاڑ نے اور قبضہ کرنے کیلئے بلوچ گلزمیں پر حملہ آوار ہو کر بلوچ قومی وجود کو تاراج کرنے کی ہر کوشش کو بہادر بلوچ فرزندوں نے جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے کم افرادی قوت اور کم ہتھاروں سے ناکام کرکے تاریخ میں وطن پر قربان ہوکر امر ہوئے۔جس کا تسلسل انگریز سامراج کی تشکیل شدہ نا م نہاد اسلامی ریاست پاکستان کی قبضہ کے خلاف بلوچ فرزندوں نے ۸۴۹۱ سے غیر منظیم گروہی انداز سے وقتا بوقتا جاری رکھا جو آج ایک منظیم شکل میں آٹھاران سالوں سے مسلسل کیساتھ ایک ایسی غیر مہذب قبضہ گیر ایٹمی قوت جو انسانی اور جنگی تہذیب سے نا آشنا دہشتگرد پنجاپی افواج سے سیاسی اور جنگی محاذوں پر جوانمردی سے مقابلہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔

دوستوں آج میرا مضموں ایک ایسے فرزند وطن کی شجاہت بہادری قوم وطن پر زندگی کی تمام آسائشوں بچپن کی کھیل کھود استحصالی نظام تعلیم ذاتی وگروہی مفادات کو نچاور کرکے آپنا کم عمری کو قومی تحریک میں ایک با صلاحیت گوریلہ جہدکار سپاہی کا روف عطا کیا۔کمسن عاطف سے شہید عاطف عرف کمسن کمانڈر مہراب کا سفر جوانمردی سے جاری رکھتے ہوئے اپنی قومی بندوق کو دوستوں کی ہاتھوں میں تھما کر ۲ مئی ۸۱۰۲ کو تنظیمی مشن سے واپسی میں دشمن کے ڈیتھ اسکاوٹ سے آمنا سامنا ہو کر بہادری سے مقابلے میں جام شحادت نوش کرتے ہوئے جہد آزادی کی تحریک کو آپنے دوستوں کے حوالہ کرتے ہوے ان الفاظوں سے الوداع ہوئے ا کہ اب گلزمین دوستوں تمہاری کندوں پر ڈال کر آپنا بندوق تمہاری مبارک ہاتھوں میں تھما چکا ہوں اس کی لاج رکھ کر دشمن پر قہر الہٰی بنو۔ آج جب میں ان بکھرے ہوئے چند سطروں کو ترتیب دے رہا تھا اچانک میرے فون سے ایک میسج آیا میرا ہاتھوں کی حرکت رک گئے میسج پڑھا ٓنکھیں نم ہوئیں میسج میں نوراجان عرف میجر پیرک اور تین ساتھوں شہید نواز جان شھیدمالک جان اوع شہید مومن جان محاذ جنگ پر قبضہ گیر ریاستی ڈیٹھ اسکاوٹ اورفوج کی ماٹر گولوں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کا مقابلہ اپنے کلاشکوپوں سے نوانمردی بہادری اور جذبے حریت کے ساتھ آخری گولی تک کرتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے ہیں تو اچانک میرے بے جان ہاتھوں میں جان آگئے اور ہاتھیں حرکت کرنے لگے اور میرے منتشر ضمیر کو مذید قوت بخشا اور حیالوں میں عاطف جان مجھ سے یہی تقاضہ کررہا تھا کہہ اباجان کیوں رک گئے لکھو اپنے قلم کی سیاہی کو سوکھنے مت دو کیونکہ آپ کی قلم میں ریاستی کالی سیاہی نہیں بلکہ شہیدوں کے سرخ لہو سے بھرا ہے۔ اب جب کے اباجان میرا بندوق کے ہر نکلتے ہوئے گولی دشمن کے سنے کو چیر تا رہا ہے اور دوستوں نے میری بندوق کو زنگ آلود ہونے نہ دیا اور نہ میرا سنگر ویران ہے ۔

آج میرے کلاش کی گھونج نے دشمن کی جینا حرام کر ڈالا تو ابا جاں تیرا قلم اور ہاتھ کیوں رک گئے، آج اچانک میرے قلم کی سیاہی مذید چمک اور نگار مہک رہاتھا اور ہاتھوں کی حوصلے بڑرہے تھے ضمیر کچھ الفاظ کی تلاش میں گھوم رہاتھا کہ آج کادن یکم مئی اور ۲مئی کی سوغات میں کیس لفظوں سے اپنی بکھری ہوئی مضمون کومنور کروں اسی سوچ میں سامنے پڑے موبائل رنگ نے جھونکادیا جب فون اٹھایا تو کسی دوست کا فون تھا کہنے لگا یوسف سویڈن سے ساجد جان کی لاش اوپسلا کی ایک ندی کے کنارے پولیس کو ملا ہے یہ پیغام میرے لیے انوکھا نہ تھااور نہ پریشان کن ہاں البتہ دل خراش ضرورتھا کیونکہ ساجد کو بہت کچھ کرنا تھا مگر فرد جدا ہوتے ہیں لیکن ایسے شخصیات کے فلسفے، فکر ونظریہ جدا نہیں ہو سکتے اور نہ دشمن انکی نظریہ حیات کو مار سکتاہے آج میرے قلم کی نوک سے نکلتے ہو ہر قطرہ سیاہی میں ساجد جان کے لہو کی مہک شامل ہے جس نے اس تحریر کو جان بخشا۔

ہاں عاطف جان کے فکر نظریہ اور کمیٹمنٹ کے مطالق مجھ سے زیادہ شہید عاطف جان کے قریبی ساتھی دوست جانکاری رکھتے ہیں کیوں کہ مجھے ہمیشہ اس کا سیاسی عمل بچھگانہ اور اس آشوبی دور میں سماجی ردعمل محسوس ہوتارہا میں نے اسی آشوبی وقت میں اکثر بیشتر عاطف جان کو صرف سیاسی عمل میں سرگرم اور متحرک پایا۔ جو اکثر ایسے ادوارکے بچوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ عاطف جان اپنی کم عمری میں اپنے عظیم چچا شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ اور بڑے بھائی شہیدآصف جان کی سوچ و فکر کی زنجیروں میں جھگڑے ہوئے ارمانوں کو ایک گوریلہ روپ میں سمیٹ کر بلوچ گلزمین کے پہاڑوں کو اپنا مسکن بناتے ہوئے ایک دن گوریلہ کمسن کمانڈر مہراب کی شکل میں بلوچ قومی تحریک کی زینت بنکر قومی ہیروں کی لمبی فہرست میں نموندار ہوگا۔جس سے گھریلو داستان میں ایک نئے باب کا اضافہ اپنے لہو سے کرئیگا۔

ہاں عاطف جان آپ کی ہردل عزیز پیاری بڑی بہن خیریہ آپ کی دیکھی ہوئی ایک خواب کی داستاں آج تک بھول نہ پائی جس کا ذکر آپ عاطف جان نے ۷۰۰۲ کی ایک رات دیکھا تھا صبح جب نیند سے اٹھے تو چائے کی دیوان میں اپنے دیکھے ہوئی خواب کی داستان اس طرح بیاں کیا کہ کل جب بی ایس او آزاد اور بی این ایم کا جلسہ ختم ہوا دوستون کی محفل چلتا رہا میں تھکا ہوا گھر آیا کھانے کے بعد مجھے گہری نیند آرہا تھاتو میں سو گیا سوتے سوتے میں خیالوں کی سمندر میں گردش کر رہا تھا کہ اچانک میرے روح بہ روح ایک مونچوں والا نوجوان نمو ندار ہوا سلام علیک کے بعد مجھ سے مخاطب ہوا کہ عاطف جان مجھے پہچانتے ہو تو میری آنکھوں میں فدا جان کی تصویروں کی جھلک آگیا۔ مگر میں چوتھی کلاس میں پڑھ رہا تھا میرے کہنے سے پہلے مسکراتے ہوئے لہجہ میں کہنے لگا عاطف جاں میں فدا احمد ہوں اور میرے ہاتھوں میں آزاد بلوچستان کا جھنڈا تھما کر مخاطب ہوا کہ لو عاطف بیٹا اس بیرک کو اپنے ہاتھوں سے سورو قبرستان میں لہرا دیں۔

تو میں نے فورا فدا جان کے ہا تھوں کوبوسہ دیکر بلو چستان کا بیرک سورو قبرستان میں لہرادیا ۔ جو آج کل شہدائے مرگاپ کے اسم گرامی سے پہچانا جاتا ہے اور فدا جان مجھے الوداع کہ کر غائب ہوا اتنے میں میری آنکھیں کھول گئے میں اب اماں جان سوچ میں پڑ گیا ہوں کہ ماجرہ ہے کیا؟۔ ماں نے آپ کو تسلی دیکر خواب کی تعبیر یوں کی کہ بیٹا جان آپ قسمت والے ہو کہ شہید فدا جان نے خواب مین قومی جھنڈا لہرانے کی شرف بخشا۔ وہی ہوا شہید غلام محمد اور ساتھیوں کی شہادت کے دوراں ریاستی بندوقوں کی سائے میں ایف سی کیمپ سورو اور سالم کوہ پر آپ نے قومی جذبے سے سر شار ہوکر بلوچستان کا بیرک اپنے ہاتھوں سے لہراتے گئے وہی جھنڈا بی ایل ایف کا جھنڈا آپ کا آخری لباس بن گیا اور ۲مئی وہی عظیم رہنما کامریڈ فدا جان کی یوم شہادت تھا اور اسی تاریخ ۲ مئی آپ عاطف جان اور اب کئی بلوچ فرزندوں کی یوم شہادت کی مناسبت سے قومی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment