ڈیتھ اسکواڈ | عزیز سنگھور

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

مکران کی پرامن فضا کو ایک مرتبہ پھر ایک منصوبے کے تحت خراب کیا جارہا ہے۔ ایک مخصوص گروہ کے حوالے کیا جارہا ہے۔ جہاں انہیں مکمل چھوٹ دی گئی ہے۔ پرائیوٹ جرگے منعقد کیے جارہے ہیں۔ ان کی اپنی پرائیوٹ عدالتیں چل رہی ہیں۔ کسی پر کوئی الزام لگاکر انہیں موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا ہے۔ ان پرائیوٹ جرگوں کو کوئی قانونی و آئینی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ہے۔

حال ہی میں تربت کے ایک نجی اسکول کے استاد عبدالرؤف برکت کو اس وقت موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ جب انہیں اس مخصوص گروہ نے اپنے ایک پرائیوٹ جرگہ میں طلب کیا تھا۔ ان پر مبینہ طور پر توہین رسالت کا الزام تھا۔ جبکہ مقتول اس الزام کو رد کرچکا تھا۔ مقتول کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے جت بلنگور سے تھا۔ وہ تربت کے ایک نجی اسکول میں بطور استاد کام سرانجام دے رہا تھا۔ جبکہ وہ ایل ایل بی کے داخلے کی خواہشمند بھی تھا۔

علاقے میں یہ گروہ ڈیتھ اسکواڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جھنیں سرکاری بھائی جانوں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ عبدالرؤف برکت کی موت کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی مذمت کی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث بلوچستان کے ناظم اعلیٰ مولانا عبدالغنی زامرانی عبدالرؤف برکت کے قتل کو ایک افسوسناک عمل قراردیا۔ اسی طرح جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے نائب امیر خالد ولید سیفی نے عبدالرؤف برکت کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں، علماء کرام اور سول سوسائٹی اور طلباء تنظیموں کو سے اپیل کی کہ وہ اس عمل کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ عبدالرؤف برکت کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور پرائیوٹ جرگہ منعقد کرنے والوں کو بھی قتل میں شامل تفتیش کیا جائے۔ ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اس ڈیتھ اسکواڈ کے کارندھے ضلع کیچ کے علاقے پیدارک میں سرگرم ہیں۔ جہاں عام لوگوں کے مال مویشی زبردستی چھین لی جاتی ہے۔ منع کرنے پر بزرگ اور خواتین سے بدتمیزی کی جاتی ہے۔ ان کی بدمعاشیوں سے بعض عزت دار لوگوں نے پیدارک کے علاقے سے نقل مکانی کی ہے۔ کسی کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ اس گروہ کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ سرکاری بھائی جانوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایسے بے شمار ڈیتھ اسکواڈز منظم کیے ہیں۔ بلوچستان کو مختلف ڈیتھ اسکواڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شاید حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ان گروہ کے ذریعے بلوچستان کے مسائل حل نکالا جائے۔ تو یہ ان کی بھول ہے۔ کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ بندوق کی طاقت کے ذریعے حل کبھی بھی نہیں ہوگا۔ بلوچستان کا مسئلہ ایک خالصتا سیاسی، آئینی اور قانونی ہے۔

ڈیتھ اسکواڈ کے کارندھے بلوچستان میں کبھی تعلیم نسواں کے خلاف سرگرم نظر آتے ہیں تو کبھی اساتذہ کو ٹارگٹ کرکے موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں۔ پنجگور سے تعلق رکھنے والے استاد سر زاہد آسکانی کو گوادر میں شہید کیا گیا۔ اسی طرح پروفیسر صبا دشیتاری کو کوئٹہ میں شہید کیا گیا۔ ماضی میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندھے تعلیم نسواں کے خلاف سرگرم تھے۔ کیچ پنجگور اور گوادر میں پرائیوٹ اسکولوں کو جلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اسکولوں کے باہر پمفلٹس بھی پھینکے گئے۔ لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں انگلش پڑھنے کے لیے بھیجنے سے باز رہیں۔ والدین کو بھی دھمکی دی گئی تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو نجی اسکولوں اور انگلش لینگویج سینٹرز بھیجنا بند کردیں۔ مسلح افراد نے بعض اسکولوں پر حملہ کیا تھا اور ان گاڑیوں کو آگ لگادی تھی، جولڑکیوں کو ان اداروں تک لاتی اور لے جاتی تھیں۔ پنجگور ضلع میں تقریباً دو درجن نجی انگلش میڈیم اسکول اور لینگویج سینٹرز تین مہینے تک بند بھی رہے تھے۔

کچھ سال قبل ضلع مستونگ میں پڑنگ آباد کے علاقے سورگزر ریلوے پھاٹک کے قریب خواتین اساتذہ کی اسکول وین پر موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کردی تھی۔ جس کے نتیجے میں چار خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔ حملے کے وقت وین میں دس خواتین اساتذہ موجود تھیں جو دشت بابا سمیت مختلف سرکاری گرلز اسکولوں میں فرائض کی ادائیگی کے بعد واپس اپنے گھروں کو کوئٹہ جارہی تھی۔ واضع رہے کہ متعلقہ حکام نے تعلیم نسواں کو فروغ دینے کے لئے کوئٹہ شہر سے خواتین اساتذہ کو مستونگ کے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا۔ اور اس سلسلے میں پک اینڈ ڈراپ کے لئے بس سروس کا بھی انتظام کیاگیا تھا۔ تاکہ علاقے میں تعلیم نسواں کی معیار کو بہتر کیا جاسکے۔ سیاسی حلقوں نے مستونگ میں خواتین پر حملہ بلوچی روایات کے منافی قراردیا۔ اور کہا کہ دانستہ طورپر بلوچستان کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے کے لئے ایسے اقدامات کٹھ پتلی سرکار کی موجودگی میں کئے جارہےہیں۔ اس واقعہ سے قبل مستونگ میں گرلز اسکولوں میں زہریلا اسپرے کیاگیا جس سے کافی بچیاں متاثر بھی ہوئیں تھیں۔

کچھ دنوں سے مکران میں ڈیتھ اسکواڈ کو پھر سے سرگرم کردیا گیا۔ جہاں مخصوص گروہوں کی جانب سے پرائیوٹ جرگے منعقد کیا جانا لگا۔ عام لوگوں کو طلب کرکے ان پر سزا اور جزا تعین کیا جانے لگا۔ اس کے پیچھے ایک خاص مائنڈ سیٹ کارفرما ہے۔ ڈیتھ اسکواٖڈ کے کارندھے اپنے جرگوں کو خود سے علماء کرام کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ بلوچ معاشرے میں علماء کرام کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بلوچ معاشرے میں جہاں سیاسی سرگرمیاں ناپید ہوتی ہیں وہاں علماء کرام ہراول دستہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جس کی مثال ہمارے سامنے مغربی بلوچستان (ایرانی بلوچستان) ہے۔ جہاں علماء کرام ایرانی حکومت کے نارواں سلوک کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔ عالم دین مولانا عبدالحمید اسماعیل زئی بلوچ اپنے جمعہ کے خطبے میں بلوچ عوام کو طلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس کے خطبے سننے کے لائق ہیں۔ مولانا کے خطبوں بلوچوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پرمبنی ہوتے ہیں۔ ان کی تقریر بلوچوں کو سیاسی طورپر بیدار کرتے ہیں۔ اسی طرح مشرقی بلوچستان (پاکستانی بلوچستان) میں علماء کرام کا ایک کردار ہے۔

مکران سے تعلق رکھنے والے عالم دین، مصنف، مذہبی اسکالر اور جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر مولانا عبدالحق بلوچ (مرحوم) سے میری ذاتی تعلق داری رہی ہے۔ مولانا صاحب سے میری تربت اور کراچی میں بے شمار ملاقاتیں رہی ہیں۔ وہ جماعت اسلامی میں رہتے ہوئے بھی بلوچستان کے ساحل و وسائل کی بات کی۔ انہوں نے بلوچستان کی صوبائی خودمختیاری کے حصول کے لئے جدوجہد کی۔ مولانا صاحب میں ایک بلوچیت جھلکتا تھا۔ حالانکہ مولانا صاحب کے موقف اور جماعت اسلامی کے پالیسیوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ کیونکہ جماعت اسلامی مضبوط وفاق کی بات کرنے والی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی صوبائی خودمختیاری جیسے مطالبہ کو وفاق کی تقسیم اور کمزوری کرنے کا عمل سمجھتی ہے۔ مگر مولانا صاحب نے گوادر پورٹ کی بات کی۔ انہوں نے سیندک اور ریکوڈک منصوبوں کی بات کی۔ ان منصوبوں پر بلوچ عوام کی حاکمیت کی بات کرتے تھے۔ مولانا صاحب نے ہمیشہ مزاحمت کی تلقین کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت دراصل دین اسلام کا اصل روح ہے۔ اگر مولانا صاحب کی اس تلقین کو دیکھا جائے تو یہ کہنا آسان ہوگا کہ آج دین اسلام کے دعویدار وہ ہیں جو پہاڑوں میں مزاحمت کار کی شکل میں موجود ہیں۔ نہ کہ ڈیتھ اسکواڈ چلانے والے سرکاری آلہ کار ہیں۔ جو مذہب کے نام پر بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے حکم دیتے ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ بلوچ یک آواز ہوجائے۔ وگرانہ آج عبدالرؤف برکت کی باری ہے۔ کل کسی اور کی باری ہوگی۔

***

Share This Article
Leave a Comment