داعش خراسان نے گذشتہ دنوں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکرزکنونشن پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
داعش خراسان نے اپنی ویب سائٹ ’اعماق‘ پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ حملہ آور نے خود کش جیکٹ کے ذریعے دھماکہ کیا اور یہ کہ حملہ تنظیم کی جمہوریت کی ان شکلوں کے خلاف جنگ کا حصہ ہے جن کو وہ اسلام کے خلاف تصور کرتے ہیں۔
اس حملے میں 54 افراد ہلاک اور کم از کم 120زخمی ہو گئے تھے۔ اسے حالیہ برسوں میں خطے میں ہونے والے بد ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
پیر کو ہی خیبر پختونخواہ کے ضلع باجوڑ میں جمیعتِ علمائے اسلام پارٹی فضل الرحمان گروپ کے سیاسی اجتماع پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کی جاتی رہی۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم پانچ بچے بھی ہیں۔