حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی آفس سے جاری ایک بیان میں بلوچستان بھر میں گمشدگیوں میں حالیہ اضافے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کے خلاف تمام تر کوششوں اور احتجاج کے باوجود بھی ہٹ دھرمی برقرار ہے اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لئے لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے کے بجائے مزید نوجوانوں کو اٹھایا جارہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ریاستی ادارے بلوچستان میں امن نہیں چاہتے بلکہ طاقت، ظلم اور شورش سے عوام کو دبانا چاہتے ہیں ،جو ممکن نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیاکہ وزیراعظم کے دورے کے دن ہی گوادر سے چار نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا جو انتہائی قابل مذمت ہےجووزیراعظم کی گواد آمد پر عوام کو مزید گمشدگی کا تحفہ ملاہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ حق دو تحریک بلوچستان لاپتہ افراد کے لئے ہمیشہ جدوجہد کرتی رہے گی اور اس سلسلے کے رک جانے اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔