جماعت اسلامی کے رہنما اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے دورے گوادر پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ گوادر میں 20 سال سے محض منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ کر صرف دعائیں پڑھی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشرف سے لے کر شہباز شریف تک منصوبوں کا افتتاح ماسوائے سراب کے کچھ نہیں، گزشتہ بیس سالوں سے محض سنگ بنیاد رکھ کر دعائیں پڑھی جا رہی ہیں مگر ان افتتاحی تقاریب سے مقامی لوگ مستفید نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہاکہ گوادر میں مقامی افراد کے لیئے مشرف سے لیکر شہباز شریف تک منصوبوں کا افتتاح ماسوائے سراب کے کچھ نہیں،6 ماہ قبل ایرانی صدر کیساتھ ملکر وزیر اعظم نے گوادر کے عوام کو 24 گھنٹے بجلی فراہمی حوالے 100 میگاواٹ بجلی منصوبے کا افتتاح کیا مگر آج بھی گوادر کے عوام بد ترین لوڈشیڈنگ و توانائی بحران کا شکار ہیں ۔
انہوں نے کہا گزشتہ 20 سالوں سے محض سنگ بنیاد رکھ کر دعائیں پڑھی جارہی ہیں مگر ان افتتاحی تقاریب سے اب تک مقامی لوگوں کے لیئے کسی بھی قسم کے فوائد حاصل نہیں ہوئے اور نہ ہی اب تک ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے آیا کہ جس سے عوام کو استفادہ حاصل ہو ، انہوں نے کہا کہ شادی کو ر سے لیکر گوادر تک 160 کلومیٹر سے زائد پائپ لائن بچھایا گیا مگر کلانچ سمیت ضلع گوادر کے مقامی آبادیاں آئے روز پانی کی بد تریں قلت کا شکار ہیں اور لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنادی ہیں، ضلع گوادر میں منصوبوں کا ڈنڈورا پیٹنا افسران و ایم پی اے کی کمیشن کا راہ ہموار کرنے کے سوا کچھ نہیں جس کے سبب ضلع گوادر میں اب تک سینکڑوں منصوبوں کی سنگ بنیاد رکھ کر ان کا کریڈٹ بھی لیا گیا ہے مگر ضلع بھر کے شہری و دیہی علاقے آج بھی بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ضلع گوادر میں مختلف ادارے جو عوام کو ریلیف دینے کے لیئے قائم کیئے گئے ہیں ان میں ایم پی اے کی آشیر باد سے بیوروکریٹس کی شکل میں نااہل افسران کا جال بچھایا گیا ہے جن کی وجہ سے تمام تر ادارے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہیں اس کے باوجود وہ اپنے کرسیوں پر مقناطیس کی طرح چپک کر عوام پر مسلط ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ضلع بھر میں مختلف انتظامی و انسانی ذرائع فراہم کرنے والے ادارے عوام کو بنیادی سہولیات دینے سے قاصر ہیں اور اس کی اصل وجہ ایم پی اے کی سرپرستی ہے جس کے سبب ان نااہل بیوروکریٹس و افسران نے ضلع گوادر کو کرغمال بنایا ہوا ہے۔