گوادرمیں چائنا ایکسپو سینٹر کا افتتاح: بلوچستا ن اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوا،شہباز شریف

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مقبوضہ بلوچستان کے شہر گوادر کا دورہ کیا۔جہاں انہوں نے چائنا ایکسپو سینٹر کا افتتاح کیا جبکہ 102 کلومیٹرکا بسیمہ خضدار روڈ، 55کلومیٹر کا آواران جھل جاؤ روڈ، نیوگوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ، پنجگورناگ بسیمہ نل ٹرانسمیشن لائن کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔

گوادر پہنچنے پر گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی ان کے ہمراہ تھے اور آزادی پسندبلوچ مسلح تنظیموں کے حملوں کے پیش نظر سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے۔

وزیر اعظم کے دورہ کے گوادر اورچائنا ایکسپو سینٹر کے افتتاحی تقریب میں بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو شریک نہیں ہوئے ۔

انہوں نے مستحق ماہی گیروں میں امدادی چیک اور طلباء و طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے۔

تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ گوادر میں ایک ایک منٹ اطمینان اور مسرت کا گزر رہا ہے، بلوچستان پاکستان کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کو بنیادی وسائل سے محروم رکھا گیا، گوادر اور بلوچستان کی ترقی کے لیے عوامی منصوبوں کی بنیاد رکھی، ہم نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچائی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے اپنے وسائل بھی استعمال کیے، بلوچستان ریکوڈک سمیت معدنیات سے مالامال ہے، ریکوڈک کے جھگڑے پر پاکستان کے اربوں روپے جھونک دیے گئے ، اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام کو فائدہ نہیں ہوا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ گوادر دنیا کی گہری ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے، بڑے بڑے وزنی جہاز یہاں لنگر انداز ہوسکتے ہیں، سابق دور میں گوادر پورٹ کی صفائی تک نہیں کی گئی، صفائی نہ ہونے کی وجہ سے گودار پورٹ کو نقصان پہنچا، ہم نےصفائی کا کام شروع کردیا ہے، جلد بڑے جہاز آنا شروع ہوجائیں گے، گوادر میں جہاز آئیں گے تو فائدہ مقامی آبادی کو روزگار ملے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی دورمیں جاری منصوبوں کو التواء میں رکھا گیا، بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے، تعلیم اور بنیادی سہولتوں پر بلوچستان کے عوام کا حق ہے، بلوچستان کے منصوبوں سے یہاں کے عوام کی ترقی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل چکا ہے، بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اقدامات کیے جانا چاہئیں، حکومت سنبھالتے ہی گوادر بندرگاہ کی صفائی کا کہا، گزشتہ 15 ماہ کے دوران 6 لاکھ ٹن سامان آیا، ہمیں بلوچستان کو ترقی کا عظیم خطہ بنانا ہوگا، یہاں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حفاظت ہمارافرض ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پچھلے بجٹ سے ایک لاکھ لیپ ٹاپ آج تقسیم کیے گئے، موجودہ بجٹ سے مزید ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم ہوں گے، بلوچستان کے لیپ ٹاپ بجٹ 14 فیصد سے 18 فیصد کردیا جائے گا، ہم نے گوادر بندرگاہ دنیا کی بہترین بندرگاہ بنانا ہے۔

پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل چکا ہے، چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان کی بے پناہ مدد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دلیر لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت نعمتوں سے نوازا ہے، مجھے احساس ہوا بلوچستان کےعوام کو یکسر بھلا دیا گیا ہے، گوادرسمیت بلوچستان کی ترقی کیلئے نوازشریف کے عوامی نوعیت کے منصوبے بنائے، بلوچستان میں پینے کے پانی اور بجلی ایران سےلانے کا منصوبہ بنایا گیا، بلوچستان میں سیوریج لائن کی ٹریٹمنٹ کا منصوبہ بنایا گیا، پچھلےسال میں آیا تو معلوم ہوا 4 سال میں کسی ایک منصوبہ پرکام نہیں ہوا، گوادر پورٹ، انڈسٹریل زون، ائیرپورٹ، اسپتال سی پیک کے تحت تعمیر ہونے تھے، ان سب منصوبوں پر کام بالکل ختم ہوچکا تھا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سوئی گیس، ریکوڈک، سینڈک سمیت بے شمار خزانے بلوچستان میں موجود ہیں، ان پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے، اس کے بعد کسی اور کا ہے، ریکوڈک کے جگھڑے پر پاکستان کے اربوں روپے لگ گئے، اتنے پیسے بہانے کا عوام کو ایک پائی کا فائدہ نہ ہوا، بلوچستان کے عوام پوچھتے ہیں کہ یہاں بندرگاہ تو بن رہی ہے، عوام کیلئے کیا کیا گیا؟

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں ترقی ہو، سیاسی استحکام آئے، بلوچستان نے اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، لیپ ٹاپ اسکیم میں بلوچستان کا حصہ 14 فیصد رکھا ہے، باقی صوبے آگے ہیں، بلوچستان پیچھے ہے، اسے آگے لے کر آنا ہے، پچھلے بجٹ کے حساب سے ایک لاکھ لیپ ٹاپ آج تقسیم ہوئے، اگلے بجٹ میں مزید ایک لاکھ لیپ ٹاپ بلوچستان کیلئے رکھیں گے، احسن اقبال سے کہتا ہوں لیپ ٹاپ اسکیم میں بلوچستان کا حصہ 18 فیصد رکھیں۔

Share This Article
Leave a Comment