بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک اورپریس ریلیز میں گوادر میں گذشتہ دنوں ہونے والے ایک دستی بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے گذشتہ دنوں گوادر شہر میں ایک پنجابی سہولت کار کو دستی بم سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہاکہ حملے کے نتیجے میں پنجابی مخبر زاہد انصاری کے ساتھ دو مقامی نوجوان بھی زخمی ہوگئے۔
ترجمان نے کہا کہ تنظیم کا ہدف زاہد انصاری تھا جوپاکستانی فوج کا ایک اہم ایجنٹ ہے اور آزادی پسند سوچ کے حامل نوجوانوں کی نشاندہی اور ان کی جبری گمشدگی میں ملوث ہے۔
میجر گہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ مذکورہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ایک خاص مشن پر گوادر میں تعینات کیا گیا تاکہ وہ مقامی لوگوں کو ریاستی مشینری کا حصہ بنائے۔تنظیم کی خفیہ ٹیم کو اس کی خبر ملنے کے بعد اس پر نظر رکھا گیا اور دشمن پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے کے اہلکار کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم مقامی لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی فوج اور ان کے معاونین سے دور رہیں کیونکہ وہ تمام ہمارے نشانے پر ہیں اور کسی بھی وقت ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اوربلوچستان کی آزادی تک دشمن فورسز اور ان کے معانت کاروں پر حملے جاری رہیں گے۔