بلوچستان میں پر تشددواقعات سے 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کی ابتدائی دو سہ ماہیوں میں پاکستانی سیکورٹی فورسزکے 267اہلکاروںکی ہلاکت گزشتہ پورے سال کے دوران ہونے والی 286 ہلاکتوں کا تقریباً 93 فیصد ریکاربنتے ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس سال کے آخر تک سیکیورٹی فورسز کے جانی نقصانات دگنے ہوسکتے ہیں۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھرمیںہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی کے ساتھ سال 2023 کی دوسری سہ ماہی میں پرتشدد واقعات میں تقریبا 21 فیصد کمی دیکھی گئی۔
سی آر ایس ایس کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق بلوچستان میں تشدد (ہلاکتوں) میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کی پہلی سہ ماہی میں ہلاکتوں کی تعداد 358 تھی جو کم ہو کر اگلی سہ ماہی میں 284 ہوگئی۔سال 2023 کی دوسری ششماہی کے دورانحملوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے 176 واقعات میں تقریباً 284 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 291 زخمی ہوئے۔حملوں کا سب سے زیادہ شکار سیکیورٹی اہلکار بنے۔
پر تشدد حملوں کا بنیادی مرکز خیبرپختونخوا اور بلوچستان تھے، جہاںپاکستان کی تمام ہلاکتوں کا 80 فیصد اور تمام حملوں کا 88 فیصد (بشمول حملوں اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں) ریکارڈ کیے گئے۔
سی آر ایس ایس کے نتائج کے مطابق اسلام آباد، پنجاب اور سندھ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مقابلے میں تشدد کے نسبتاً کم واقعات ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیاکہ پرتشدد کارروائیوں میں سب سے زیادہ کمی صوبہ سندھ میں دیکھی گئی جو کہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد تھی، اس کے بعد پنجاب میں یہ شرح 55 فیصد اور خیبرپختونخو میں 20 فیصد کمی ہوئی۔
دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ کی گئی ہلاکتوں میں سے تقریبا 62 فیصدحملوں کے نتیجے میں ہوئیں، جہاں 121 حملوں میں 165 افراد ہلاک اور 191 عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر دوسرے روز ایک سیکیورٹی آپریشن کیا گیا، تاہم حملوں کی تعداد اس سے زیادہ رہی اور روزانہ ایک سے زیادہ حملے ہوئے۔حملوں کے ان 121 واقعات کا سب سے بڑا نشانہ سیکیورٹی اہلکار تھے، جن میں 103 جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 62 عام شہری ہلاک ہوئے۔حملوں کا نشانہ بننے والے ان 165 متاثرین کے مقابلے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں عسکریت پسندوں، باغیوں اور جرائم پیشہ افراد کی صرف 119 ہلاکتیں ہوئیں۔
سال 2021 کے بعد سے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔