روس میں ناکام مسلح بغاوت کے بعد صدر پوتن کی ’باغی‘ پریگوژن سے ملاقات

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read
فوٹو : روئٹرز

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مسلح گروہ ویگنر کے سربراہ یفگینی پریگوژن کی جانب سے ایک ناکام بغاوت کی سربراہی کے پانچ دن بعد ان سے ملاقات کی۔

یہ اعلان کریملن کی جانب سے کیا گیا ہے اور ڈپٹی ترجمان دمتری پیسکوو کا کہنا ہے کہ ویگنر کے سربراہ کو 35 کمانڈرز کے ساتھ دعوت دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ 23 جون کو شروع ہونے والی بغاوت صرف 24 گھنٹے جاری رہی تھی جس کے دوران ویگنر گروپ نے ایک شہر پر قبضہ کیا اور ماسکو کی جانب پیش قدمی کی۔

تاہم بعد میں ایک معاہدے کے تحت کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی اور یفگینی پریگوژن کو بیلاروس جانے کی پیشکش کی گئی۔

انٹر فیکس نیوز ایجنسی کے مطابق ڈپٹی ترجمان دمتری پیسکوو نے کہا کہ صدر نے یوکرین جنگ کے دوران کمپنی کی کارروائی کا تجزیہ کیا۔

’انھوں نے 24 جون کے واقعات کا بھی تجزیہ کیا اور کمانڈرز کی وضاحت سنی اور ان کے مستقبل کے بارے میں بات کی۔‘

ترجمان کے مطابق یفگینی پریگوژن نے صدر پوتن سے کہا کہ ’ویگنر گروپ ان کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔‘

گذشتہ ہفتے بیلاورس کے رہنما الیگزینڈر لوکاشینکو، جنھوں نے بغاوت ختم کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا تھا، نے کہا تھا کہ یفگینی پریگوژن روس میں ہیں۔

بی بی سی نے جون کے آخر میں یفگینی پریگوژن کے طیارے کو بیلاروس جاتے ہوئے اور اسی شام روس لوٹنے کے بارے میں جان لیا تھا۔

واضح رہے کہ ویگنر گروپ ایک نجی فوج ہے جو روس کی فوج کے ساتھ مل کر یوکرین کے خلاف لڑ رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment