بیلاروس کے رہنما کا کہنا ہے کہ مسلح گروہ ویگنر کے سربراہ یفگینی پریگوژن، جنھوں نے گذشتہ ماہ روس میں مختصر مدت کے لیے بغاوت کی قیادت کی تھی، بیلاروس میں نہیں بلکہ روس میں موجود ہیں۔
ابھی بغاوت کے بعد سے پریگوژن کا ٹھکانہ ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
جمعرات کو بیلاروس کے رہنما الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا: ’جہاں تک پریگوژن کا تعلق ہے تو وہ سینٹ پیٹرزبرگ میں ہیں۔ وہ بیلاروس کے علاقے میں نہیں ہیں۔‘
لوکاشینکو کے بیان کے جواب میں کریملن نے کہا ہے کہ وہ پریگوژن کی نقل و حرکت پر نظر نہیں رکھ رہا ہے۔
لوکاشینکو نے بغاوت کو ختم کرنے کے لیے معاہدے میں مدد کی تھی اور صرف ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ پریگوژن بیلاروس پہنچ گئے ہیں۔
جمعرات کے روز لوکاشینکو نے مزید کہا کہ ’جہاں تک میں جانتا ہوں ویگنر کے باقی جنگجو اب بھی اپنے اڈوں پر موجود ہیں‘ جن میں مشرقی یوکرین یا روس کے کراسنودار خطے میں ایک تربیتی اڈہ شامل ہو سکتا ہے۔
بیلا روس کے رہنما نے کہا ہے کہ ویگنر کے لیے بیلاروس میں اپنے کچھ جنگجوؤں کو تعینات کرنے کی پیش کش اب بھی برقرار ہے اور انھوں نے سوویت دور کے کئی مقامات کو فوجی استعمال کے لیے پیش کیا ہے (ایک ایسی پیش کش ہے جس نے ہمسایہ نیٹو ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے)۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لیکن ویگنر کچھ اور سوچتے ہیں اور یقیناً میں آپ کو اس بارے میں نہیں بتاؤں گا۔‘
واضع رہے کہ ویگنر گروپ کرائے کے فوجیوں کی ایک نجی فوج ہے جو یوکرین میں باقاعدہ روسی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔
اپنے خطاب میں لوکاشینکو نے کہا کہ انھیں بیلاروس میں ویگنر جنگجوؤں کی موجودگی پر کوئی تشویش نہیں ہے، انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’کچھ شرائط‘ پر ملک میں رہیں گے۔
لوکاشینکو نے ویگنر کے ’تجربے‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’بنیادی شرط یہ ہے کہ اگر ہمیں اپنے ملک کے دفاع کے لیے انہیں فعال کرنے کی ضرورت ہے تو ایسا فوری طور پر کیا جائے گا۔ اور انھیں کسی بھی سمت میں بھیجا جا سکتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے بیلاروس میں ویگنر کی زیر قیادت بغاوت کے کسی بھی ممکنہ خطرے کو مسترد کردیا۔