مشکوک ترسیلات زر باعث اسرائیل سے 5 پاکستانی گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے 5 افراد کو اسرائیل میں ملازمت کرنے اور ’مشکوک‘ ترسیلات زر پاکستان بھیجنے کے الزام میں گرفتار کر کے تحققیات شروع کر دی ہیں۔

مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل محمد اقبال نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایف آئی اے کرائم سرکل کے پاس اس سال ’سرکاری ذرائع‘ سے ایک انکوائری آئی کہ پاکستان میں آنے والی ترسیلات زر میں کچھ مشکوک ٹرانزیکشنز ایسی ہیں جو اسرائیل سے آئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ ٹرانزیکشن سنہ 2016 سے سنہ 2021 کے درمیان ہوئی تھیں اور اس معاملے کی دو ماہ تک تحقیقات ہوئیں۔

ایف آئی اے نے تحقیقات کرنے کے بعد پانچ افراد کو حراست میں لیا۔ ان تحقیقات میں مذید تین نام بھی سامنے آئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ایف ائی اے حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق مذہبی تنظیموں سے ہے۔ تاہم ایف آئی اے کے اہلکار کے بقول یہ مذہبی تنظیمیں کالعدم نہیں ہیں۔

اب تک جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں کامران صدیقی، ستارہ پروین، عبدالماجد صدیقی اور محمد اسلم شامل ہیں۔ گرفتار کیے جانے والے افراد کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقے میر پور خاص سے ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پاکستان نے سفارتی طور پر اسرائیل کو کبھی تسلم نہیں کیا۔

ان افراد کے خلاف درج مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ ان ملزمان نے ایک اسرائیلی ایجنٹ اسحاق متاط کو اسرائیل میں ملازمت کے لیے تین لاکھ سے لیکر سات لاکھ روپے تک دیے۔

ایف آئی آر کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام افراد اسرائیل میں گاڑیاں دھونے کا کام کرتے تھے۔

Share This Article
Leave a Comment