عظیم دوست کی جبری گمشدگی کو 9 سال مکمل، گوادر میں احتجاجی ریلی و مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے سی پیک حب شہر گوادر سے 9 سال قبل پاکستانی ریاستی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار عظیم دوست ودیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے انکی بہن رخسانہ دوست اور لواحقین کی طرف سے گوادر صدف ہوٹل سے پریس کلب گوادر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

احتجاجی ریلی گوادر کے مختلف گلیوں سے گزر کر پریس کلب کے سامنے اختتام پزیر ہوا جہاں اس نے ایک احتجاجی جلسے کی شکل اختیار کی۔

احتجاجی ریلی میں عظیم دوست کی فیملی کے ساتھ دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت سیاسی اور سماجی کارکنان نے بھی شرکت کی۔

ریلی کے شرکاء نے عظیم دوست سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے نعرے لگائے اور جبری گمشدگیوں کو روکنے کی اپیل کی گئی ۔

ریلی کے شرکاء سے اپنے خطاب میں عظیم دوست کی بہن رخسانہ دوست نے کہا کہ "آج میری انتظار کو 9 سال گزر گئے لیکن میرا بھائی عظیم دوست تاحال ریاستی اذیت خانوں سے منظر عام پر نہیں لائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ 9 سال میری زندگی کے وہ دردناک لمحے ہیں جنہوں نے میری زندگی کے ساتھ ساتھ میری فیملی کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان 9 سالوں میں ہم نے کوئی خوشی نہیں دیکھی ۔میری بوڑھی ماں دن رات اپنے بیٹھے عظیم دوست کو یاد کرتی ہے۔ ان 9 سالوں میں ہمارے گھر میں کسی نے عید نہیں منایا۔

رخسانہ دوست نے کہا کہ جب عید جیسی خوشیوں کے دن آتے ہیں تو ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا درد اور تکلیف محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر کوئی عید میں اپنے پورے فیملی کے ساتھ خوشی مناتا ہے لیکن ہمارے یہ دن روڈوں پر احتجاج مظاہروں میں گزرجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "کیا یہ ریاست ہمیں بتا سکتا ہے کہ میری بوڑھی ماں اور میری فیملی کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے ؟؟ آج بلوچستان کا ہر گھر اسی آگ میں جل رہا ہے کیونکہ ایسا کوئی گھر نہیں بچا جہاں کسی بہن کا بھائی، کسی بیوی کا شوہر، کسی ماں کی آنکھوں کا تارہ یا کسی باپ کے بڑھاپے کا سہارہ یا کسی معصوم بچے کے سر سے اسکے باپ کا سایہ نہیں چھینا گیا ہو۔

لاپتہ عظیم دوست کے بہن کا کہنا تھا کہ بھائی کی بازیابی کے لئے ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ، احتجاج کیا، دھرنوں میں بیٹھ گئے، اس ریاست سے فریاد کیا کہ میرے بھائی کو منظر عام پر لایا جائے اگر اس نے کوئی جرم کیا ہے اپنی عدالتوں میں پیش کوکے اس کو سزا دو۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں کیوں اس طرح اذیت دی جا رہی ہے؟؟

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس ریاست سے اپنی بوڑھی ماں کی خوشیاں واپس مانگتی ہوں خدارا میرا بھائی مجھے واپس لوٹادیں۔ میرے لواحقین سمیت تمام لاپتہ افراد کے لواحقین کو اس اذیت اور دردناک انتظار سے آزاد کریں۔اورعظیم دوست سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

Share This Article
Leave a Comment