یہ اْن تیرہ نوجوانوں کی کہانی ہے جوتیس جون 2015کو کمانڈر شیہک بلوچ کے والد محترم کے وفات پر تعزیت کیلئے گئے ہوئے تھے۔اس سے پہلے،بھی کمانڈر کے ساتھ بیس سے زیادہ ساتھی ہوتے تھے۔ ان کے والد کے وفات بعد اْن کے پچاس سے زیادہ ساتھی تھے، اس رات کمانڈر کو پیشگی خبر مل چکی تھی کہ پاکستانی فوج کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہے۔
کمانڈر نے اپنے چھوٹے بھائی ذاکر بلوچ کو مشورہ دیا ہے کہ آپ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ کسی دوسری جگہ جا کر سو جائیں، اور چھوکنے رہیں۔ ذاکر بلوچ نے بالکل ایسا ہی کیا، ذاکر بلوچ اپنے دوستوں کے ساتھ محفوظ جگہ پر چلے گئے جبکہ کمانڈر سلیمان عرف شہیک بلوچ رات اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی اور جگہ رک گئے۔
علی الصبح پانچ بجے جب بلوچ آزادی پسند جاگ جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہر طرف پاکستانی فوج کا گھیرا ہے۔ پھر شروع ہوتی ہے گھمسان کی لڑائی۔ پاکستانی زمینی فوج کی مدد کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹر پہنچ جاتے ہیں۔پورے دن کی لڑائی میں دشمن کو بلوچ سرمچار بڑی تعداد میں جانی نقصان پہنچاتے ہیں۔دشمن کامقابلہ کرتے ہوئے کمانڈر شہیک جان کو ٹانگ پر دو گولیاں لگ جاتی ہیں،جس سے وہ شدید زخمی ہو جاتے ہیںاور ساتھ ہی انکا کافی سار ہ خون بہہ چکا ہوتا ہے،ایسے میں انکا ساتھیوں کے ساتھ نکلنا ممکن نہیں ہوتا اور وہ اپنی جان کی وجہ سے دیگر ساتھیوں کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
جنگی ماہر گوریلہ کمانڈر شہیک جان موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دوستوں کو نکلنے کا کہتے ہیں اور اس سے قبل وہ بلوچ،سرمچاروں اور ماں کے نام ایک ویڈیو ریکارڈ کراتے ہیں۔جس میں کہتے ہیں۔
دوستو مجھے گولیاں لگی ہیں، جنگ جاری ہے۔ اگر میں شہید ہو جاؤں، جنگ جاری رہنا چاہئیے۔ بلوچستان کی آزادی اور جنگ ہماری سیاسی پالیسی ہے،آج جو قربانی ساتھی دے رہے ہیں اور دیں گے پارٹی لیڈر شپ سے گزارش کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ ہماری تنظیم کو نقصان پہنچے اور جہد آزادی رک جائے،جہد آزادی کو مضبوط کرنا ہے۔ ہر ساتھی دشمن کے مذموم مقاصد کو ناکام بنائے۔خون بہہ جانے کی وجہ سے مجھ میں بات کرنے کی سکت کم رہ گئی ہے۔ بلوچستان زندہ باد،بی ایل ایف زندہ باد۔
شہیید شہک جان نے اپنی ماں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ
ماں پریشان مت ہونا،میں نامردی سے نہیں مررہا،اگرمرگیا تومیرے بچوں کو مجھ پر فخر ہو گا،قوم کے لیے جنگ لڑ رہا ہوں،بہنو! پریشان مت ہونا،میں قومی آزادی کے لیے اپنی جان دے رہا ہوں۔
جب ساتھی گھیرا توڑ نے میں کامیاب ہوکر نکل جاتے ہیں تو ان کا سامنا آگے جاکر ذاکر بلوچ یعنی کمانڈر شیہک کے چھوٹے بھائی سے ہوجاتاہے۔ وہ تمام حالات کے بارے میں سن کر کہتے ہیں کہ آپ لوگ چلے جائیں، میں زخمی ساتھیوں کو گھیرا سے نکالنے کیلئے کوشش کرتاہوں۔
ذاکر بلوچ زخمی ساتھیوں کے قریب پہنچ کر فوج سے لڑنا شروع کر دیتا ہے ۔جب اس کی بندوق کی گولیاں ختم ہو جاتی ہیں تو وہ اپنے دوسرے ساتھی کی بندوق لیکر لڑنا شروع کر دیتا ہے اور جام شہادت نوش کرکے امر ہوتے ہیں۔
٭٭٭