روس میں ’مسلح بغاوت‘ کرنے والے نجی ملیشیا ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوزین بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ماسکو کی جانب پیش قدمی روک کر بیلاروس روانہ ہو رہے ہیں۔
سنیچر کو بیلاروس کے صدر اور ویگنر سربراہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد یوگینی پریگوزین نے اپنے جنگجوؤں کو روس کے دارالحکومت ماسکو کی جانب پیش قدمی سے روک کر واپس کیمپوں میں جانے کا کہا ہے۔
پریگوزن نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ روسی فوج کے اعلیٰ عہدے داروں کو ہٹانا چاہتے ہیں اورانصاف کی بحالی چاہتے ہیں۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے ان کے اس اقدام کو بغاوت قرار دیتے ہوئے اس کو فیصلہ کن انداز میں کچلنے کا اعلان کیا تھا۔
بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے دفتر نے کہا ہے کہ انھوں نے صدر پوتین کی منظوری سے پریگوزن سے بات کی ہے اور واگنر ملیشیا کے سربراہ نے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایوگنی پریگوزن نے اپنی پریس سروس کی طرف سے جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ’’وہ واگنر ملٹری کمپنی کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے 23 جون کو انصاف کے لیے مارچ کا آغاز کیا۔ 24 گھنٹے میں ہم ماسکو سے 200 کلومیٹر دور رہ گئے۔ اس دوران میں ہم نے اپنے جنگجوؤں کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا‘‘۔
انھوں نے مزید کہا:’’اب وہ وقت آ گیا ہے جب خون بہایا جا سکتا ہے۔ اس بات کی ذمے داری کو سمجھتے ہوئے کہ ایک طرف روسی خون بہایا جائے گا، ہم اپنے دستوں کو لوٹا رہے ہیں اور منصوبہ بندی کے مطابق فیلڈ کیمپوں میں واپس جا رہے ہیں‘‘۔