بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے حکومت پاکستان کے سالانہ بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئز نے بتایا کہ "عملہ استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں پر پاکستانی حکام سے بات کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم مالی سال 2024 کے بجٹ نے زیادہ ترقی پسند انداز میں ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کا موقع گنوا دیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ نئے ٹیکس اخراجات کی طویل فہرست ٹیکس کے نظام کی شفافت کو مزید کم کرتی ہے اور یہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غریب طبقے کے لیے درکار وسائل کو بھی کم کرتی ہے۔پاکستان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ایسا بجٹ پیش کرے گا جو آئی ایم ایف کے پروگرام سے ہم آہنگ ہو۔
پیریز روئز کا کہنا تھا، "نئی ٹیکس ایمنسٹی پروگرام کی شرائط اور گورننس کے ایجنڈے کے خلاف ہے، جو نقصان دہ مثال قائم کرتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے لیکویڈیٹی کے دباو سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو بجٹ کی وسیع حکمت عملی میں شامل کیا جاسکتا تھا۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ نے کہا، "آئی ایم ایف کی ٹیم اس بجٹ کی منظوری سے قبل حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔”