بلوچستان میں انسانی بحران بوسنیا اور ہرزیگووینا سے کہیں زیادہ سنگین ہے | ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سے خصوصی انٹرویو

0
930

آزادی پسند بلوچ رہنما اورمسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سے ایک نامعلوم مقام پر بلوچ جہد آزادی کی جنگی و سفارتی محاذ، جاری جنگ میں عام بلوچوں کی حالت زار،چین کی بلوچستان آمد وسرمایہ کاری،بلوچستان کے موجودہ سلگتے حالات ، عالمی برادری سے توقعات ،جبری گمشدگیوں اور موجودہ عالمی صورتحال پر”ادارہ سنگر کی جانب سے ایک خصوصی و مفصل انٹرویو کی گئی ہے ۔جسے قارئین و بلوچ عوام کی دلچسپی و معلومات کے پیش نظر شائع کیاجارہا ہے ۔ ادارہ سنگر

سنگر: موجودہ عالمی صورتحال کو آپ بلوچستان اور جنوبی ایشیا کے تناظر میں کیسے دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : جنوبی ایشیا کے علاوہ بڑی عالمی طاقتیں جنوب مغربی ایشیا اور مشرق بعید پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس خطے میں رونما ہونے والے واقعات کا بلوچستان اور اس کی جاری تحریک آزادی پر براہ راست یا بالواسطہ اثر پڑتا ہے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ تائیوان، بحیرہ جنوبی چین اور چین بھارت تنازعہ بلوچستان کو متاثر کرنے والے عوامل ہیں۔ یہ اب صرف مارکیٹ کی بالادستی کی جنگ نہیں رہی۔ بھارتی وزیر خارجہ نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ

CPEC

ہمارے خطے میں ایک اہم خطرہ ہے۔ بلوچستان چین پاکستان اقتصادی راہداری

(CPEC)

کا مرکزی پوائنٹ ہے۔۔

انڈو پیسیفک الائنس اور چین کی جارحانہ اور توسیع پسند خارجہ پالیسی کے بلوچستان کے لیے سنگین اثرات ہیں، جیسا کہ ایک نیا اتحاد ابھر رہا ہے۔ بلوچستان میں آزادی کی جنگ جاری ہے۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں، جیسے کہ بھارت، یورپی یونین، اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ

(USA)

کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ نئے بننے والے اتحاد کی روشنی میں بلوچستان کے مسئلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ تمام قوتیں بلوچستان کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔ آزاد بلوچستان کے قیام سے ہی خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

میں علاقائی اور عالمی طاقتوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں بلوچستان کو شامل کریں۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں کی طرف سے بلوچ مسئلہ کو نظر انداز کرنا ایک تباہ کن حادثہ کا باعث بن سکتا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر جمہوری، جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کو برقرار رکھنا اس کی دہشت گردی، اسلامی انتہا پسندی کی حمایت اور دہشت گردوں کی افزائش گاہ کے طور پر کردار کی وجہ سے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ یہ 9/11 یا ممبئی حملوں جیسے بڑے واقعات کا باعث بن سکتا ہے، جس کے مہذب دنیا کے لیے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

سنگر : آپ لوگوں نے دو دہائیوں سے زیادہ کی جنگ سے کیا حاصل کیا ہے؟ کیا اس جنگ سے بلوچ کا بھی نقصان ہوا ہے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : جنگ آزادی میں نقصانات ناگزیر ہیں کیونکہ اس کا انحصار ردِانقلابی قوتوں اور آزادی کے لیے لڑنے والوں کی متعلقہ طاقت پر ہوتا ہے۔ بلوچ اپنے قومی وجود کے دفاع اور اپنی طاقت کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ بلوچ اور دشمن کے نقصانات کے تناظر میں دیکھیں تو دشمن کو زیادہ نقصان ہوا ہے۔

بلوچستان کے قومی تشخص، ثقافتی تحفظ اور آزادی کی جدوجہد کے دوران ایک نسل بلوغت کی عمر میں آچکی ہے۔ دو دہائیاں پہلے کے مقابلے آج پورے بلوچ معاشرے میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے۔ سفاکانہ ردِ انقلابی اور دشمن کی جانب سے غیر مہذب رویے کا سامنا کرنے کے باوجود، آج کے بلوچ قومی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد کے لیے پرعزم ہیں۔

یہ جنگ مختلف محاذوں پر زور و شور سے جاری ہے۔ میدان جنگ ہو یا سیاست میں، بلوچ عوام نے دنیا کو ایک یقینی پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی آزادی کے لیے لڑنے والی ایک زندہ قوم ہیں۔

سنگر : افغانستان سے امریکی انخلاء کا خطے اور بلوچ تحریک پر کیا اثر ہوا ہے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : امریکی فوجوں کے افغانستان پہنچنے سے پہلے بلوچ جنگ میں مصروف تھے، اور فوجوں کے انخلا کے بعد بھی ان کی آزادی کی لڑائی کی شدت میں کمی نہیں آئی ہے۔ میں بعض دانشوروں کے اس نظریے سے متفق نہیں ہوں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچ آزادی کی جدوجہد کا آغاز افغانستان میں امریکی موجودگی کے دوران ہوا تھا۔

بلوچ ہمسایوں میں تبدیلیاں لامحالہ بلوچوں کو متاثر کرتی ہیں۔ تاہم، میں نے بارہا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان، ایران اور ہندوستان ہمارے پڑوسی ہیں اور ہمیں آزادی کے حصول میں ان کے تعاون کی امید ہے۔

سنگر : بلوچستان میں چین کی مداخلت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس نے آپ لوگوں کے لیے کتنی پریشانیاں پیدا کی ہیں؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : چین ایک سامراجی ملک بن چکا ہے جو کئی دہائیوں سے پنجابی دلالوں کے ذریعے بلوچستان کی معدنی دولت جیسے سیندک، کو بے دردی سے لوٹ رہا ہے۔

اب سی پیک کی صورت میں قابض پاکستان کی مدد سے ان کی نظریں سمندری وسائل کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے جغرافیے پر بھی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چین کا

CPEC

نامی گوادر ڈیپ سی پورٹ اقتصادی مرکز کے بجائے ایک فوجی اڈہ ہے۔ پیپلز لبریشن آرمی

(PLA)

کی موجودگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ نہ صرف بلوچوں کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے بلکہ بھارت کی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے کنارے چین کی موجودگی گرم پانی کو اپنے قبضے میں رکھ کر پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ چین کے استحصالی منصوبوں کی واضح منفی شکل افریقہ میں نظر آتی ہے۔ اس بلا کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری بلوچ عوام کی آزادی کی جنگ میں ان کا ساتھ دے۔ چین یا کسی دوسرے بین الاقوامی سرمایہ کار کو یہ بتانا ضروری ہے کہ بلوچ عوام کی رضامندی کے بغیر بلوچستان میں سرمایہ کاری ایک مہنگا فیصلہ ہوگا۔

سنگر: پاکستان خود ایک طاقتور ملک تصور کیا جاتا ہے، اب ایک سپر پاور چین بھی شامل ہو گئی ہے، اتنی بڑی طاقت کے سامنے آپ بلوچ جنگ کو اپنے حق میں کیسے فیصلہ کن بنائیں گے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : پاکستان ایک مصنوعی اور نوآبادیاتی ملک ہے جسے عالمی طاقتوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنے مفادات کے لیے قائم کیا تھا۔ اس کی فوج اب بھی کسی بھی وقت کرایہ پر دستیاب ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن صرف چین کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس نے خود اپنی آزادی کے لیے ایک طویل جنگ لڑی ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ طاقتور ترین قومیں بھی جبر کے خلاف لڑنے والی مقامی تحریکوں کی جدوجہد پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں۔ اپنی مسلسل کوششوں اور قربانیوں کے ذریعے ہم اس جنگ کا رخ اپنے حق میں موڑنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

سنگر : آزادی کی تحریکوں میں بیرونی امداد اور مدد کی کیا اہمیت ہے؟ بلوچ قومی آزادی کے لیے ابھی تک کسی ملک کی جانب سے حمایت نظر نہیں آتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : بلوچ آزادی کی جنگ ایک انڈی جینس انڈی جینس آزادی کی تحریک ہے جو اپنے ہی معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہے۔

درحقیقت، عالمی امداد ایک لازمی جزو ہے۔ وہ سیاسی، اخلاقی اور انسانی حقوق کی بنیاد پر جدوجہد آزادی کی حمایت کر سکتے ہیں۔ ہم نے عالمی برادری سے مسلسل اپیلیں کی ہیں اور میں پر امید ہوں کہ بلوچ مسئلہ تمام جمہوری ممالک اور عالمی طاقتوں کے دفتر خارجہ کی میز پر ہے۔ مقامی تحریکیں اہم طاقت رکھتی ہیں، کیونکہ ان کی لڑائیاں ان کے متعلقہ قومی اور سماجی میدانوں میں ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ بلوچوں کی جاری جنگ سے کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کیلئے بالواسطہ یا بلاواسطہ فوائد ہیں۔ بلوچستان کا جغرافیہ ناقابل یقین حد تک اہمیت کا حامل ہے، اور صرف وہی لوگ اس کی اہمیت کو نظر انداز کر سکتے ہیں جنہیں اس کا علم نہیں ہے۔

ایک آزاد، خودمختار اور سیکولر بلوچستان دنیا کی ضرورت ہے۔ آپ کے توسط سے ہم عالمی برادری، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور جمہوریت پسندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی قابض دہشت گرد ریاست کے خلاف جدوجہد میں مظلوم بلوچ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔

سنگر : پاکستان کے پاس ڈرون کی شکل میں انتہائی مہلک ہتھیار موجود ہے جس کی وجہ سے بلوچ عوام کا نقصان بڑھ رہا ہے۔ آپ لوگ اس سے کیسے نمٹیں گے؟ کیا اس سلسلے میں بین الاقوامی سفارتکاری کی گئی ہے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : پاکستان کو ڈرون فراہم کرنے کے علاوہ، چین نے بلوچ تحریک آزادی کو دبانے کے لیے کافی مقدار میں مہلک ہتھیار فراہم کیے ہیں۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے قومی آزادی اور تحریکوں کو تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچ اپنی قومی حیثیت سے لڑ رہے ہیں اور اپنے آپ کو ایسے مہلک ہتھیاروں سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں چین کی موجودگی کا مسئلہ صرف بلوچ عوام اور قابض پاکستان کا مسئلہ سے بالاتر ہے۔

لہٰذا ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرکے بلوچ نسل کشی کو روکے۔ ہم اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کو ایک جنگ زدہ علاقہ تسلیم کریں اور وہاں امن فوج بھیجیں۔ ہمیں ان سے بہت زیادہ توقعات بھی ہیں، کیونکہ بلوچستان کی صورتحال بوسنیا اور ہرزیگووینا کے انسانی بحران سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔

سنگر : آزادی کی جاری جدوجہد میں پاکستانی افواج کے ہاتھوں 60,000 کے قریب لوگوں کے جبری گمشدگی اور 20,000 سے زیادہ سیاسی اور تحریک سے وابستہ افراد کے قتل کی رپورٹ ہوچکی ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : میں آپ کے اس بیان کو درست کرنا چاہتا ہوں کہ جبری گمشدگی کے متاثرین کی تعداد صرف ساٹھ ہزار نہیں ہے، بلکہ یہ بلوچستان میں لاکھوں میں جا چکی ہے۔ اپنے وسیع جغرافیہ اور بکھری ہوئی آبادی کی وجہ سے بلوچستان میں بعض واقعات کا فوری طور پر پتہ نہیں چلتا۔ اس کے بجائے، ہم اکثر کافی وقت گزر جانے کے بعد ہی ہمیں معلوم ہوجاتا ہے۔

دوسری طرف، لاکھوں بلوچ اپنے آبائی گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اب یا تو پناہ گزین ہیں یا اندرونی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز)۔ بلوچستان میڈیا کے لیے ممنوعہ جگہ ہے۔ کوئی مستند اور غیرجانبدار ذرائع نہیں ہیں۔

ہم اقوام متحدہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بھیجے، پاکستان کے جنگی جرائم کی تحقیقات کرے، اور مجرموں کو بین الاقوامی قانون کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ مزید یہ کہ ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کو متنازعہ اور نو فلائی زون ڈیکلئیر کرے۔

سنگر : بلوچ آزادی کی تحریک نظریاتی اور عملی طور پر منظم اور مضبوط ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ طاقت سے دنیا کو قائل کر لیں گے یا آپ سمجھتے ہیں کہ سفارت کاری بھی ضروری ہے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : دونوں ذرائع کی اپنی اہمیت ہے اور ہماری جنگ کثیر الجہتی ہے۔ ہم وہ تمام ذرائع استعمال کریں گے جو ہماری کھوئی ہوئی آزادی کو دوبارہ حاصل کرنے میں ہماری مدد کریں۔

سنگر : آپ اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں اور پڑوسی ممالک سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ آپ ان کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں اور آپ کے خیال میں ان کا کردار کیا ہونا چاہیے؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : ہمیں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی طاقتوں اور علاقائی طاقتوں سے امید ہے کہ وہ ہماری تحریک آزادی کی حمایت کریں گے، خواہ اس کے باوجود کہ بعض اوقات ہم بین الاقوامی اداروں کے کردار کو مبہم دیکھتے ہیں۔ ہم پر امید ہیں کہ وہ بلوچستان جیسے اہم جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی اہمیت کے حامل جنگ زدہ خطے میں اپنا منصفانہ کردار ادا کریں گے۔ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ مسئلہ کو عالمی مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی اور ایجنڈے میں شامل کریں۔

ہم اپنی قربانیوں سے ہی دنیا کو قائل کریں گے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ دنیا ہماری مظلوم و مفتوح حیثیت کو سمجھے گی۔ عالمی برادری کی طرف سے یہ بات بڑے پیمانے پر سمجھی گئی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی افزائش گاہ ہے اور اس کی تاریخ ظلم و بربریت کی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں نے مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ بلوچ آزادی کی تحریک کے ثمرات ہیں جو آہستہ آہستہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔


٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here