نیوزی لینڈ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جسنڈا آرڈرن نے یہ بات ایک پریس بریفنگ کے دوران بتائی اور ساتھ ہی چند کاروبار، صحت عامہ کا نظام اور تعلیمی ادارے منگل سے کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم ’فی الحال‘ اس وائرس کو ملک سے ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ اب بھی لاپرواہی نہیں برتی جانی چاہیے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے ہے کہ کورونا وائرس کا مکمل خاتمہ کیا جا چکا ہے۔
وزیرِ اعظم جسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ہم معیشت کو کھولنے جا رہے ہیں لیکن لوگوں کی سماجی زندگیاں تاحال محدود رہیں گی۔
آکلینڈ سے ایک ڈاکٹر جن رسل نے ورلڈ سروس ریڈیو کے پروگرام بی بی سی او ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ لاک ڈاو¿ن کا پانچواں ہفتہ ہے جو میں نے اپنے شوہر اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر پر گزارا ہے۔ مجھے اپنے ملک پر بہت فخر ہے۔ ہم سب نے ایک دوسری کی بقا کے لیے اتنا مضبوط قدم اٹھایا ہے۔‘
خیال رہے کہ نیوزی لینڈ میں اب تک 1500 سے بھی کم کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 19 اموات سامنے آئی ہیں۔